انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 483

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۸۳ سیر روحانی (۴) ساری دتی نظر آ رہی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ایک فلم آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہو، نہ صرف نئی اور پرانی دتی بلکہ اس کے قلعے، مزار، لائیں اور مسجد میں سب آنکھوں کے سامنے تھیں اور ایک ہی وقت دتی کے یہ پرانے آثار تاریخی شواہد کو میرے سامنے پیش کر رہے تھے۔میں نے ان آثار کو دیکھا اور اپنے دل میں کہا کہ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے جس کی کسی نہ کسی خاندان سے یا کسی نہ کسی قوم یا مذہب سے نسبت ہے۔یہ آثار ان قوموں کے لئے فخر کا موجب تھے لیکن آج وہ تو میں مٹ چکی ہیں اور ان آثار کو بنانے والوں کا نام ونشان بھی نہیں پایا جاتا ، بلکہ بعض جگہوں پر تو اُن کا دشمن قابض ہے اور وہ تو میں جنہوں نے یہ یادگاریں قائم کی تھیں محکومیت اور ذلت کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔یہ ایک عبرت کی بات تھی جو میرے دل میں پیدا ہوئی اور میں سوچتے سوچتے انہی خیالات کی رو میں کھویا گیا اور میری توجہ ان یادگاروں پر مرکوز ہوگئی۔تھوڑی دیر کے بعد مجھے پیچھے سے آواز آئی کہ اب آجا ئیں بہت دیر ہو گئی ہے، لیکن میرے خیالات کی رو میرے قابو سے باہر تھی۔میں نے اُس وقت سوچا اور غور کیا کہ یہ مادی آثار جو دنیا میں اپنی یادگاریں قائم کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں ، کیا ان کے مقابلہ میں ہمارے خدا نے بھی کچھ آثار بنائے ہیں؟ اور اگر بنائے ہیں تو ان خدائی آثار اور یادگاروں کی کیا کیفیت ہے اور یہ مادی آثار ان کے سامنے کیا حقیقت رکھتے ہیں؟ میں نے سوچنا شروع کیا کہ جن لوگوں نے یہ قلعے بنائے اور دنیا کے سامنے اپنی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کیا ، کیا اس کے مقابلہ میں ہمارے خدا نے بھی کوئی قلعہ بنایا ہے۔یا جن لوگوں نے دنیا میں بڑے بڑے مینار بنائے ہیں کیا ان کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے بھی کوئی مینار قائم کیا ہے۔اسی طرح دنیوی مینا بازاروں کے مقابلہ میں کیا خدا تعالیٰ نے بھی کوئی مینا بازار بنایا ہے یا دنیوی دیوان عام اور دنیوی دیوان خاص جو بادشا ہوں نے بنائے ، کیا ان کے مقابلہ میں روحانی عالم میں بھی کوئی دیوان عام اور دیوانِ خاص پائے جاتے ہیں۔اسی طرح یہ دریا اور سمندر جو قدرتی طور پر دنیا میں بہہ رہے ہیں، کیا ان کے مقابلہ میں اسلام میں بھی کوئی ایسی یادگاریں پائی جاتی ہیں ؟ آخر سوچنے اور غور کرنے کے نتیجہ میں میرے دل میں قرآن کریم کی کئی آیات آتی چلی گئیں اور مجھے معلوم ہوا کہ یہ دنیا کی یادگاریں انہی یادگاروں کا صرف ایک ظاہری نشان ہیں اور یہ آثاران روحانی آثار کی طرف توجہ دلانے