انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 449

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۴۹ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں تکلیف بھی برداشت کرنی پڑے تو اگلی زندگی کے مقابلہ میں اس دنیا کی زندگی کی حقیقت ہی کیا ہے۔وہ ایک نہ ختم ہونے والی زندگی ہے اور یہ زندگی زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ یا ستر اسی سال تک چلی جاتی ہے۔یہ زندگی تو اس کے مقابلہ میں اتنی بھی حقیقت نہیں رکھتی جتنی پچاس ساٹھ سالہ زندگی کے مقابلہ میں ایک منٹ کی حیثیت ہوتی ہے۔کیا دنیا میں کوئی بھی انسان ایک منٹ کی تکلیف پر گھبراتا ہے۔بالخصوص ایسی حالت میں جب اسے یقین ہو کہ ایک منٹ کے بعد مجھے ساری عمر اور کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔پھر وہ انسان کیسا انسان ہے جو اس دنیا کی تکالیف کو اہمیت دیتا اور اگلے جہان کی زندگی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم پر غور نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کو مرنے کے بعد حاصل ہونے والی زندگی پر پورا یقین نہیں ہوتا۔وہ منہ سے اس زندگی کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان کا عمل بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ اس زندگی پر قطعاً ایمان نہیں رکھتے اسی لئے ان کی نگاہ میں اعمال بالکل حقیر ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ موقع مل گیا تو عمل کر لیا اور نہ خدا بڑا معاف کرنے والا ہے وہ ہمارے قصوروں کو ضرور معاف کر دیگا۔اسمیں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا خدا معاف کرنے والا ہے مگر ہمارا خدا ایمان برباد کرنے والا نہیں۔یہ ایمان بر باد کرنے والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر تو عمل نہ کیا جائے اور اسکے عفو پر یقین رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بالصراحت فرمایا ہے کہ مؤمنوں کو مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی زیارت حاصل ہوگی۔مگر فرماتا ہے اس نظر کے لئے دنیا میں آنکھیں تیار ہوں گی یعنی اس دنیا کے نیک اعمال مؤمن کو ایسی بینائی بخشیں گے جس سے اسے خدا تعالیٰ نظر آ جائے گا۔پس معافی کا سوال نہیں سوال ان آنکھوں کا ہے جن سے خدا نظر آتا ہے۔اگر کسی کے پاس ایسی آنکھیں ہی نہیں جن سے خدا نظر آ سکے تو وہ اللہ تعالیٰ کو کس طرح دیکھے گا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ ومَن كَانَ في هذةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الآخِرَةِ آغمی کے جو شخص اس دنیا میں اندھا ہوگا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ جو شخص دنیا میں ظاہری آنکھوں کے لحاظ سے نابینا ہوگا اور وہ اگلے جہان میں بھی نا بینا ہو گا۔یہ تو بڑے ظلم کی بات ہے کہ اس جہان میں بھی ایک شخص کو اندھا رکھا جائے اور اگلے جہان میں بھی اُسے اندھا رکھا جائے۔اس کے معنی یہی ہیں کہ جو شخص اس جہان