انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 448

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۴۸ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں مظالم میں اتنے مشہور تھے کہ ہر شخص جس کے پاس وہ جاتے وہ انہیں کہتا کہ تمہارے جیسے آدمی کی تو بہ کہاں قبول ہو سکتی ہے۔آخر وہ حضرت جنید بغدادی کے پاس گئے جو صوفیاء کے آباء سمجھے جاتے ہیں اور ان سے کہا کہ میں آپکی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا ہاں تو بہ کا راستہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے مگر ایک شرط تمہیں ماننی پڑے گی تا کہ پتہ لگے تم سچے دل سے تو بہ کر رہے ہو یا صرف ظاہری طور پر۔انہوں نے کہا کہ آپ شرط بیان کریں مجھے اس کے تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا شرط یہ ہے کہ تم جس جگہ گورنر رہے ہو وہاں جاؤ اور ایک ایک دروازہ پر دستک دے کر کہو کہ میں اپنے مظالم کی تم سے معافی مانگتا ہوں تاکہ پتہ لگے کہ تم تا ئبانہ زندگی بسر کرنا چاہتے ہو۔شبلی نے کہا بیشک مجھے منظور ہے چنانچہ وہ گئے اور جس جگہ وہ گورنر رہے تھے اس جگہ کے ادنی سے لے کر اعلیٰ تک تمام لوگوں سے یہاں تک کہ غلاموں اور چوہڑوں اور چماروں تک سے بھی انہوں نے معافی مانگی۔ہر ایک کے دروازہ پر دستک دیتے اور کہتے میں تم سے عاجزانہ معافی مانگتا ہوں میں نے بڑے بڑے ظلم کئے ہیں مگر اب میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں جس سے میں ان مظالم کا ازالہ کرسکوں۔میں عاجزی اور لجاجت سے معافی مانگتا ہوں اور اپنے قصوروں پر سخت نادم اور شرمندہ ہوں۔جب وہ ایک ایک شخص سے معافی مانگ کر واپس گئے تب حضرت جنید بغدادی نے ان کی بیعت قبول کی اور پھر انہوں نے اتنی ترقی کی کہ خود بھی ایک بہت بڑے پایہ کے بزرگ بن گئے۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خلعت ہمیں عطا کیا گیا ہے ہمیں اس کے متعلق ہمیشہ یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ جب ہم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوئے تو ہمیں اس کے متعلق جواب دینا پڑے گا۔آخر دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے یا تو اسلام سچا ہے یا جھوٹا۔اگر اسلام سچا مذہب ہے اور اگر مرنے کے بعد ایک زندگی ہمیں ضرور حاصل ہوگی اور اگر یہ سچ ہے کہ مؤمنوں کو جنات عدن عطا کئے جائیں گے تو پچاس ساٹھ سالہ دنیوی زندگی کے لئے جو شخص کوشش کرتا ہے کیا وجہ ہے کہ اگر اسے مرنے کے بعد کی زندگی پر بھی ایسا ہی یقین ہے تو اس کے لئے دُنیوی زندگی سے ہزاروں گنے زیادہ کوشش نہیں کرتا۔اگلی زندگی کو اچھا بنانے کے لئے اگر یہاں کسی کو