انوارالعلوم (جلد 19) — Page 438
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۳۸ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں دنوں کے بعد دن، ہفتوں کے بعد ہفتے اور سالوں کے بعد سال گزرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن موت کا فرشتہ آجاتا اور انسان خالی ہاتھ اللہ تعالیٰ کے پاس چلا جاتا ہے۔مرنے والوں میں دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔وہ لوگ بھی جو اللہ تعالیٰ کے پیارے ہوتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو اللہ تعالیٰ سے دور ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ بعض لوگ جب مرنے لگتے ہیں تو فرشتے ان کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں لاؤ اپنی جانیں ہمارے سپر د کرو تا کہ ہم تمہیں دوزخ میں داخل کریں اور بعض لوگ جب مرنے لگتے ہیں تو فرشتے انہیں کہتے ہیں تمہیں بشارت ہو کہ تمہارا پیدا کرنے والا خدا تمہیں سلام بھیجتا ہے اور اس نے اپنی جنت کے دروازے تمہارے لئے کھول دیئے ہیں۔غرض موت ایک قطعی اور یقینی چیز ہے۔اس کا تعلق عقیدہ سے نہیں کہ کہا جا سکے کہ فلاں کے عقیدہ میں موت قطعی ہے اور فلاں کے عقیدہ میں موت قطعی نہیں سب لوگ موت کے قائل ہیں اور پھر جو لوگ مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کو ایک نئی زندگی حاصل ہو گی اور وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ سے انعام یا سزا پائیں گے۔عیسائیوں کا بھی عقیدہ ہے ہندوؤں کا بھی یہی عقیدہ ہے اور مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے مگر میری مخاطب اس وقت احمدی عورتیں ہیں۔گو مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ دوسری خواتین بھی اس جلسہ میں تشریف لائی ہوئی ہیں لیکن بہر حال وہ بھی مسلمان ہیں اور ان کے اور ہمارے عقائد جہاں تک اسلامی اصول کا سوال ہے ایک ہی ہیں۔وہ بھی قرآن کریم پر ایمان رکھتی ہیں اور ہم بھی قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کریم اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کی اصل زندگی وہ ہے جو موت کے بعد شروع ہو گی۔یہ زندگی صرف تیاری کے لئے ہے اور ایسی ہی ہے جیسے بچے کو سکول میں بھیجا جاتا ہے۔کوئی بچہ سکول میں اس لئے داخل نہیں کیا جاتا کہ وہ ساری عمر سکول میں ہی رہے گا یا سکول سے فارغ ہونے کے بعد وہ کوئی کام نہیں کرے گا۔ہر بچہ سکول میں اس لئے داخل کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی آئندہ زندگی کے لئے تیاری کرے اور آنے والے دور میں وہ ایک کامیاب جرنیل ثابت ہو۔اسی طرح اگر مرنے کے بعد زندگی کوئی حقیقت رکھتی ہو تو ہمیں اپنے آپ کو مجبور کرنا چاہئے کہ ہم اس زندگی کو ایسا ہی سمجھیں جیسے سکول