انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 437

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۳۷ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں متعلق غفلت اور بے تو جہی سے کام لیتے ہیں۔صرف یہی چیز ایسی ہے جو یقینی اور قطعی ہے مگر اس کے متعلق تیاری سب سے کم پائی جاتی ہے۔شام کا کھانا عورتیں تیار کرتی ہیں ، عصر کا ناشتہ عورتیں تیار کرتی ہیں ، مگر ان میں سے نہ کھانے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ میں عصر تک زندہ رہوں گا یا نہیں اور نہ پکانے والی کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ عصر تک زندہ بھی رہے گی یا نہیں۔اس موہوم خیال پر کہ ہم عصر تک زندہ رہیں گے وہ عصر کے ناشتہ کے لئے تیاری کرتی ہیں اس موہوم خیال پر کہ ہم شام تک زندہ رہیں گے وہ شام کے کھانے کے لئے تیاری کرتی ہیں یا اس موہوم خیال پر کہ ہم اگلے سال تک زندہ رہیں گے لوگ سردی اور گرمی کے لئے کپڑے تیار کرتے ہیں۔مشرقی پنجاب میں لاکھوں لاکھ مسلمان ایسا تھا جس نے سردی کے لئے کپڑے تیار کر رکھے تھے مگر ان کا کپڑا وہیں رہ گیا اور سکھوں کے کام آیا حالانکہ جس حد تک اُن کو یقین تھا وہ بھی قطعی نہیں تھا بلکہ مشتبہہ تھا مگر ایک مشتبہہ حالت میں ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اگلے سال کی سردیوں کے لئے کپڑے تیار کئے مگر اس یقین کے ہوتے ہوئے کہ ہر انسان نے ایک دن مرنا ہے اور ضرور مرنا ہے بہت سے انسان دنیا میں ایسے ہیں جو اپنے مرنے کیلئے کوئی تیاری نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ ہر روز رات کے وقت آسمان سے اترتے اور لوگوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں۔لَدُوا لِلْمَوْتِ وَابْنُوا لِلْخَرَابِ سے اے انسانو! بچے جنو مگر اس لئے کہ وہ مریں اور مکان بناؤ مگر اس لئے کہ وہ ٹوٹیں اور خراب ہوں۔یعنی ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے مرتا ہے اور ہر مکان جو بنایا جاتا ہے ٹوٹتا ہے لیکن اس کے باوجود بچے پیدا کرنے کے متعلق لوگوں کی کوششوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔مکان بنانے کے متعلق لوگوں کی کوششوں میں کمی واقع نہیں ہوتی۔وہ بچے پیدا کرتے چلے جاتے ہیں، وہ مکان بناتے چلے جاتے ہیں۔مگر کبھی ان کو خیال تک نہیں آتا کہ ہم ان بچوں کی ایسی تربیت کریں جن سے ان کی زندگی حقیقی زندگی کہلا سکے، کبھی ان کو خیال نہیں آتا کہ ہم مکان بنا ئیں تو اس لئے کہ ان میں خدا کا نام لیا جائے۔آخر بچوں اور مکانوں کا حقیقی مدعا کیا ہے؟ وہی بچے انسان کیلئے برکت کا موجب ہو سکتے ہیں جن کا خدا سے تعلق ہو اور وہی مکان انسان کیلئے برکت کا موجب ہو سکتے ہیں جن میں خدا کا نام لیا جا تا ہومگر یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔