انوارالعلوم (جلد 19) — Page 436
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۳۶ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں سیٹرھیاں اُترتی ہوں اُدھر جائیں وہ دوسری طرف چلے جاتے ہیں اور یہ سمجھ کر کہ وہ سیڑھیاں اتر رہے ہیں جب اپنا پاؤں نیچے رکھتے ہیں تو زمین پر گر جاتے اور بسا اوقات ہلاک ہو جاتے ہیں مگر بہر حال ایسا دیدہ و دانستہ نہیں ہوتا غلطی سے ہوتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ دشمن کھانے میں زہر ملا دیتا ہے اور انسان بے خبری میں اُسے کھا جاتا ہے اور مرجاتا ہے مگر یہ بھی دیدہ و دانستہ نہیں ہوتا غلطی سے ہوتا ہے۔بہر حال یقینی طور پر جب کسی شخص کو علم ہو کہ فلاں چیز سے مجھے پہنچے گا تو وہ غلطی کا مرتکب نہیں ہوتا اور یہ بات انسانی زندگی میں ہم اتنی کثرت سے دیکھتے ہیں کہ اسے بطور اصل اور قانون کے پیش کیا جا سکتا ہے۔انسانی زندگی کے مختلف اعمال اور مختلف کاموں پر جب نگاہ دوڑائی جائے تو ہر عمل کم و بیش یقین کے ساتھ تعلق رکھتا نظر آتا ہے۔مگر ایک چیز ایسی ہے جو ساری چیزوں سے زیادہ یقینی اور قطعی ہے مگر انسان کا معاملہ اس سے متعلق بالکل عجیب ہے۔وہ اس یقینی چیز سے نہ صرف یہ کہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ غیر یقینی خیالات کو اس یقینی چیز پر ترجیح دے دیتا ہے۔یہ یقینی اور قطعی چیز انسان کی موت ہے۔کوئی انسان دنیا میں ایسا نہیں جو موت سے بچ سکا ہو۔انسانوں میں سے سب سے بڑی ہستی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی لیکن آپ بھی ایک مدت تک دنیا میں کام کرنے کے بعد وفات پاگئے۔مسلمانوں میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں لیکن احمد یہ جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی وفات پا چکے ہیں اور وہ مسلمانوں کے اس عقیدہ کو غلط سمجھتے ہیں۔گویا ایک ہی ہستی جس کو دیکھتے ہوئے یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ شاید ہماری دنیوی زندگی غیر محدود ہو جائے احمد یہ جماعت نے اس ہستی کے متعلق بھی یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ زندہ نہیں بلکہ وفات پاچکی ہے۔اگر حضرت مسیح زندہ ہوتے تو خیال کیا جا سکتا تھا کہ جس طرح حضرت مسیح اب تک زندہ ہیں اسی طرح شاید زید کی عمر بھی لبی ہو جائے یا بکر کی عمر بھی لمبی ہو جائے مگر وہ ایک ہی شخص جس کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ موت سے بچ کر آسمان پر بیٹھا ہے اس کے متعلق بھی ہم نے قرآن کریم سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عام انسانوں کی طرح وفات پا چکا ہے۔گویا کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکے کہ انسان موت سے بچ سکتا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگ عام طور پر اس کے