انوارالعلوم (جلد 19) — Page 435
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۳۵ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں ( فرموده ۱۸ / مارچ ۱۹۴۸ء بمقام تھیوسافیکل ہال۔کراچی ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ کوثر کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔انسانی فطرت اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ وہ عام طور پر ان امور کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہے جو یقینی ہوتے ہیں اور پھر جتنا جتنا اُس کا یقین بڑھتا جاتا ہے انسان کا عمل بھی ترقی کرتا جاتا ہے اور جتنا جتنا یقین کم ہوتا جاتا ہے انسان کا عمل بھی کم ہوتا چلا جاتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو خودستی کرتے اور غفلت سے کام لیتے ہیں۔ورنہ یقین ایک ایسی چیز ہے جس کا عمل کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ہے۔کوئی انسان دیدہ و دانستہ زہر کی پڑیا نہیں کھاتا ، کوئی انسان دیده و دانستہ سانپ کے بل میں اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا۔کوئی انسان دیدہ و دانستہ شیر کی کچھار میں نہیں جاتا۔کوئی انسان دیدہ و دانستہ اونچے مینار کی چوٹی سے اپنے آپ کو نہیں گرا تا۔خود کشی کرنے والے کا معاملہ ایک انتہائی صورت رکھتا ہے کیونکہ وہ خود اپنے لئے موت چاہتا ہے۔اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کوئی اور انسان جان بوجھ کر ایسا فعل نہیں کرتا جس سے اس کی ہلاکت واقع ہو۔غلطی سے ایسا ہو جائے تو اور بات ہے۔مثلاً بعض لوگ ایسی چھت پر سوتے ہیں جس پر منڈیر نہیں ہوتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رات کے وقت وہ بعض دفعہ اچا نک نیچے گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔دیہات میں عام طور پر مسلمان بھی ایسا ہی کرتے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح طور پر فرمایا ہے کہ ایسی چھت پر نہیں سونا چاہئے جس کی منڈیر نہ ہوئے مگر چونکہ اس ہدایت کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اس لئے رات کے وقت بعض دفعہ جب وہ اپنی کسی ضرورت کے لئے اُٹھتے اور نیچے آنا چاہتے ہیں تو اندھیرے میں بجائے اس کے کہ جس طرف