انوارالعلوم (جلد 19) — Page 430
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۳۰ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی حکومت عوام کی ہے۔انتخاب ضروری ہے ، ریفرنڈم بھی اسلام سے ثابت ہے اور مشورہ بواسطہ نمائندگان بھی اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا ، وَإِذَا حَكَمْتُمْ بين النَّاسِ اَن تَحْكُمُوا بِالعَدْلِ ، وَ أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ ۲۴ وَ شَاوِرُهُمْ في الأَمْرِ ۲۵ اور پھر حدیث نبوی لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ " اس بارہ میں مشعل راہ ہیں۔مزدوروں کے متعلق احکام اسلامی مزدور کی مزدوری فوراً ادا ہو، اُس پر سختی نہ کی جائے ، اُس سے وہ کام نہ لیا جائے جو انسان خود نہ کرے، اس کی مزدوری کا جھگڑا حکومت کے ذریعہ چکا یا جا سکتا ہے۔بین الاقوامی جھگڑوں کے متعلق لیگ آف نیشنز کا اصول مقر رفرمایا ہے فرماتا ہے وَاِن طَائِفَتنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدهُمَا على الأخرى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِي إِلَى امْرِ اللَّهِ ، فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ " ا۔جب دو قو میں لڑیں تو دوسری اقوام مل کر اُن میں صلح کرائیں۔۔اگر کوئی فریق صلح پر راضی نہ ہو تو دوسری سب اقوام اُس کی مددکریں جو صلح پر آمادہ ہے اور جنگ کرنے والی قوم سے لڑیں۔۳۔جب جنگ کرنے والی قوم جنگ بند کر دے تو یہ بھی جنگ بند کر دیں۔۴۔اس کے بعد پھر اصل جھگڑے کے متعلق با ہمی تصفیہ کیا جائے۔۵۔بوجہ اس کے کہ ایک قوم نے پہلے صلح پر رضا مندی ظاہر نہ کی تھی اُس سے سختی نہ کی جائے بلکہ تنازع کا فیصلہ انصاف سے کیا جائے۔اس وقت مسلمانوں میں مفتی ہیں لیکن مقنن اور قاضی نہیں ہیں اور ادھر حکم ہے كُونُوا رَبَّانِين ۲۸ آہستگی سے دین کو جاری کرو یعنی اسلامی قانون کو جاری کرنے میں نہایت غور اور فکر اور سہولت کی ضرورت ہے مگر بہت سے احکام فوراً جاری کئے جاسکتے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ جاری نہ کئے جائیں۔مجلس قانون ساز کے متعلق دقت یہ ہے کہ اسلام ہر شخص کا