انوارالعلوم (جلد 19) — Page 429
۴۲۹ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی انوار العلوم جلد ۱۹ اوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِن خِلافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ " اس میں چار الگ سزائیں بتائی ہیں۔یہ سزائیں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ہیں اگر ایسے لوگ ساتھ قتل کرتے ہوں تو قتل کئے جائیں گے، صلیب دیتے ہوں تو صلیب دیئے جائیں گے ، ہاتھ پاؤں کاٹتے ہوں تو ان سے یہی کیا جائے گا، محض دنگا فساد کرتے ہوں تو قید یا جلا وطنی کی سزا دی جائے گی اس پر کیا اعتراض ہے؟ اگر مسلمان یہی معاملہ غیر اسلامی حکومت میں کرے اور اس سے یہی سلوک ہو تو مسلمانوں کو کیا اعتراض؟ سوال یہ ہے کہ باغی کافی تھا مرتد کو کیوں شامل کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرتد کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ وہ جنگی سپاہیوں کے حق کا مطالبہ نہ کرے جو باوجود قتل کے قاتل نہیں بن جاتے اور قتل نہیں کئے جاتے۔مرتد کے قتل کے خلاف یہ بھی دلیل ہے کہ پھر اُن کو بھی حق پہنچتا ہے لا تسبوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ میں اس حق کی طرف اشارہ ہے۔۴۔غلامی اسلام میں نہیں جنگی قیدیوں کا ذکر ہے اور اُن کے بارہ میں حکم ہے إمامنا بعد وإما فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارھا لے اور جس کو فداء حاصل نہ ہو اُس کے لئے کتابت کا حکم ہے پس غلامی کی کوئی صورت بھی موجود نہیں۔جنگی قیدیوں کا ذکر ہے جو ہر زمانہ میں پکڑے جاتے ہیں اور ہر حکومت پکڑتی ہے اس کے علاوہ بھی اسلام نے قیدیوں کی آزادی کے مختلف حکم دیئے ہیں۔قصاص قتل اس میں معافی کی اجازت ہے خواہ خطا کی دیت ہو خواہ عمد کی سزا ہو مگر حکومت شرارت میں دخل دے گی۔قصاص اعضاء مار پیٹ کا وَالسِّنَّ بِالسّن ۲۲ وغیرہ۔ہاں جلانے کی اجازت نہیں نہ ہتک کر نیکی۔اس قسم کی سزا کا ہونا امن کے لئے ضروری ہے مگر اس میں بھی عفو یا دیت جائز ہے اور عمد کی شرط ہے ہاں قاضی دباؤ اور ڈر کی صورت میں معافی کو برطرف کر سکتا ہے۔ملزم کی تعذیب بلکہ مجرم کی بھی جائز نہیں۔اسے روکنے کے لئے اقرار جرم کے بعد انکارِ جرم کو جائز رکھا گیا ہے۔جبری جرم، جرم نہیں بلکہ جرم کروانے والا مجرم ہے۔