انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 428

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۲۸ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی چار گواہ اُس کے فعل کے مل سکیں گے وہ زنا سے زیادہ مخش کا مرتکب ہوگا اور مخش ہی کی یہ سزا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ زنا کی کیا سزا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ زنا کی سزا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے چنانچہ زانی کے متعلق فرماتا ہے يلق انا ما یعنی وہ اپنے گناہ کی سزا خدا سے پائے گا ہاں زنا کو روکنے کے لئے شریعت اسلامیہ نے اس کے مبادی کو روکا ہے مثلاً غیر محرم مرد و عورت کے اختلاط کو روکا ہے۔۲۔چوری کی سزا قطع ید - وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أيديهما وا یہ سزا سخت بتائی جاتی ہے۔جواب یہ سزا ہر چوری کی نہیں بلکہ اس کے لئے شرطیں ہیں۔اوّل: چوری اہم ہو۔دوم : بلا ضرورت ہو یعنی عادہ۔طعام کی چوری پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا نہ دی۔اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کے متعلق ہے کہ ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جس کی یہ وجہ ہے کہ وہ کما نہیں سکتا اور بھوک سے مجبور ہے۔سوم : تو بہ سے پہلے گرفتار ہو تب سزا ملے گی۔چہارم : مال چوری کر چکا ہو صرف کوشش سرقہ نہ ہو۔پنجم : اس کی چوری مشتبہ نہ ہو یعنی اشتراک مال کا مدعی نہ ہو ، جن کے گھر سے چوری کرے وہ اس کے عزیز یا متعلق نہ ہوں جن پر اُس کا حق ہو ( بیت المال کی چوری پر حضرت عمرؓ نے سزا نہ دی ) مثلاً کسی مذہبی جنون کے ماتحت ہو۔جیسے بُت چرا لینا۔یہ مذہبی دیوانگی کہلائے گی اور حکومت تعزیری کا رروائی کرے گی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی یا جوش انتقام میں چوری کرے جیسے جانوروں کی چوری کرتے ہیں یا جبر چوری کرائی جائے۔ششم : و مشخص نابالغ نہ ہو۔ہفتم : عقلمند ہو بیوقوف یا فاتر العقل نہ ہو۔ہشتم: اُس پر اصطلاح چور کا اطلاق ہوسکتا ہو۔چور سے مال واپس دلوایا جائے گا۔۔ڈاکہ، بغاوت اور ارتداد باغیانہ کی سزا قتل ہے۔اِنَّمَا جَزَوا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا