انوارالعلوم (جلد 19) — Page 424
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۲۴ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی فَاحْكُمُ بَيْنَهُمْ بِمَا انْزَلَ اللهُ کوئی حکم فرد یا پارٹی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔وَاِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بعْضُهُمْ عَلى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَقَلِيل قَاهُمْ ؟ کوئی حکم یا نفاذ حکم ایسا نہ ہو کہ کمزوروں کو ترقی سے رو کے یا ترقی کے امکانات کو خاص افراد یا اقوام میں محصور کر دے۔ما أفاء اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرى فيلهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَمَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كي لا يكون دولة بين الأغنياء مِنْكُمْ " کوئی قانون ایسا نہ ہو کہ ایک قوم یا حکومت اُس کے ذریعہ سے دوسری اقوام پر نا جائز فوقیت حاصل کرنا چاہے یا اُسے دبانا چاہے۔تتّخِذُونَ ايْمَا نَكُمْ دَخَلا بَيْنَكُمْ أن تكون أمَّةُ هِيَ أربى مِنْ أُمَّةٍ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللهُ بِهِ وَلَيُبَيِّنَن ط لكُمْ يَوْمَ القِيمة ما كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ اس کے ماتحت زمیندار اور غیر زمیندار میں فرق جائز نہیں۔اسلام قانون کو فردی پاکیزگی کے ساتھ وابستہ قرار دیتا ہے کیونکہ سوسائٹی کی اصلاح فرد کی اصلاح کے ساتھ وابستہ ہے اور اچھے سے اچھا قانون فرد کے طوعی تعاون کے بغیر اچھا نتیجہ نہیں دے سکتا اسی لئے اسلام فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ آنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ من ضَلَّ إذا اهتدیتم، 1 اس لئے کوئی اسلامی آئین جاری نہیں ہو سکتا جب تک کہ فرد ذاتی احکام پر پہلے عمل نہ کرے۔اگر قانون کو کامیاب کرنے والی روح نہ ہو تو قانون کیا کر سکتا ہے؟ ہر قانون توڑا جا سکتا ہے، ہر قانون کے مستثنیات ہیں اور ہر شخص اپنے آپ کو مستثنے بنا سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ ”میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ راضی نہ ہوں تو بھی وہ قاضی غریب کو الو بنانے کے لئے سو جتن کر لیتے ہیں۔پس اسلامی آئین بنانے (جس کے معنی ہیں اسلامی سوسائٹی بنانے ) سے پہلے اسلامی فرد بنانا ہوگا ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ جو اسلامی فرد نہ ہوگا اُسے آئین اسلام سے کیا دلچسپی ؟ جو ذاتی احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں وہ کیوں قومی آئین کے لئے فکرمند ہوگا اگر وہ ایسا کرے گا