انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 420

۴۲۰ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی انوار العلوم جلد ۱۹ گنہگا رنہیں ہوتے تھے لیکن اگر ہم روزے نہیں رکھتے تھے۔تو ہم ضرور گنہگار ہوتے تھے۔پس جو حصہ ہمارے اختیار میں نہیں اس کے نہ کرنے پر یقیناً ہم پر کوئی الزام نہیں لیکن جو حصہ ہمارے اختیار میں ہے اس کے نہ کرنے پر یقینا ہم پر الزام ہے۔اسلامی آئین کے مطابق ہم اپنی حکومت نہیں بنا سکتے کیونکہ اس کے لئے خلافت کی شرط ہے اور خلافت کی شرط کو پاکستان پورا نہیں کر سکتا۔اسلامی خلیفہ سارے عالم اسلام کا سردار ہوتا ہے، وہ مذہب اور حکومت دونوں کا سردار ہوتا ہے، وہ سیاست اور انفرادی زندگی کا بھی سردار ہوتا ہے۔یہ شرطیں پاکستان ہرگز پوری نہیں کر سکتا لیکن جہاں تک قانون سازی اور انفرادی زندگی پر اسلامی احکام کے نفاذ کا سوال ہے اس میں کوئی چیز ہمارے رستے میں روک نہیں بن سکتی۔پس اگر پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن میں مسلمان جن کی بھاری اکثریت ہوگی یہ قانون پاس کر دیں کہ پاکستان کے علاقے میں مسلمانوں کیلئے قرآن اور سنت کے مطابق قانون بنائے جائیں گے ان کے خلاف قانون بنانا جائز نہیں ہوگا تو گو اساس حکومت کلّی طور پر اسلامی نہیں ہوگا کیونکہ وہ ہونہیں سکتا مگر حکومت کا طریق عمل اسلامی ہو جائے گا اور مسلمانوں کے متعلق اس کا قانون بھی اسلامی ہو جائے گا اور اسی کا تقاضا اسلام کرتا ہے۔اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ ہندو اور عیسائی اور یہودی سے بھی اسلام پر عمل کروایا جائے بلکہ وہ بالکل اس کے خلاف کہتا ہے۔اس اصولی تمہید کے بعد میں آئین کے لحاظ سے پاکستان کے مستقبل کے متعلق کچھ تفصیلی نوٹ دیتا ہوں۔آئین کے لحاظ سے پاکستان کا مستقبل بہت عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے باشندوں کی کثرت اس منبع آئین میں یقین رکھتی ہے جس کی نسبت خالق جن وانس فرماتا ہے۔اليوم اكمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي لا یعنی میں نے تمہاری ضرورتوں کے تمام مدارج کے لئے قانون بنا دیئے ہیں اور تمہاری ساری ہی ضرورتوں کو قانون کے ذریعے سے پورا کر دیا ہے گویا قرآنی قانون اِن ٹین سؤ (INTENSIVE) بھی ہے اور ایکس ٹین سؤ (EXTENSIVE) بھی ہے۔یہ سوال کہ ایک ہی قانون ہمیشہ کی ضرروتوں کو کس طرح پورا کر سکتا ہے؟ اس کا جواب