انوارالعلوم (جلد 19) — Page 412
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۱۲ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء اور اس کے منشاء پر ناراضگی مت ظاہر کرو۔صحابہ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تو حضرت بلال کو ایک دن تیز بخار چڑھا۔بخار کی حالت میں اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے رونا شروع کر دیا کہ ہائے مکہ ! ہم کو تو تیری وادیاں یاد آتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا تم یہ کیا کہہ رہے ہو خدا نے اپنی تقدیر نازل کی ہے اور تم رور ہے ہو۔اسی واقعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے قادیان کی جدائی میں آنسو بہانے سے منع کیا ہے۔بے شک تم اپنے دلوں سے قادیان کی یا دکومحومت کرو۔تم نے قادیان لینا ہے اور ضرور لینا ہے مگر وہ کام نہ کرو جن سے تمہاری ہمتوں کے پست ہونے کا امکان ہو۔تم اپنے آنسومت بہاؤ ، اپنی کمر ہمت کو مضبوط کرو اور قربانی اور ایثار کی روح اپنے اندر پیدا کرو۔پھر یاد رکھو تمہارے مدنظر صرف قادیان لینا نہ ہو بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کو پھیلا نا تمہارا کام ہو۔یہی فرض ہے جو ہر وقت تمہاری آنکھوں کے سامنے رہنا چاہئے مگر اس کام کیلئے اپنے دلوں میں انقلاب پیدا کرنا سب سے پہلا اور اہم ترین فرض ہے۔اگر تم اپنے اندر انقلاب پیدا کرنے کیلئے تیار نہیں تو گویا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارا گھر تو تمہیں ملے مگر تم یہ نہیں چاہتے کہ خدا تعالیٰ کا گھر اُس کو واپس ملے۔خدا کا گھر مومن کا دل ہوتا ہے تم اپنے دلوں کو پاک بناؤ۔تم ہر قسم کے گندے اور نا پاک خیالات سے خدا تعالیٰ کے گھر کو صاف کر کے اُس کے حوالے کرو اور اُس سے کہو اے خدا ! ہم نے تیرے گھر سے سکھوں اور ہندوؤں کو نکال دیا ہے۔اب تو آسمان سے اتر اور ہمارے گھر سے بھی سکھوں اور ہندوؤں کو نکال دے۔جب تم ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ کی مدد تمہارے لئے آسمان سے نازل ہوگی اور وہ کہے گا تم نے میرے دشمنوں کو میرے گھر سے نکال دیا ہے اب میں بھی تمہارے دشمنوں کو تمہارے گھر سے نکال دیتا ہوں۔یہ تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ دنیا کے گوشے گوشے میں پھر اسلام کا ڈنکا بجے۔تمام شیطانی فلسفے مٹ جائیں اور ایک خدا، ایک قانون ، ایک کتاب اور ایک رسول کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے۔اے خدا! تو ایسا ہی کر۔آمین یہ غیر مطبوعہ تقریر ہے۔