انوارالعلوم (جلد 19) — Page 403
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۰۳ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء فرماتا ہے فتح آ گئی وہ فتح بہت ہی قریب ہے جب وہ فتح آئے گی تو تمہارے دشمن ماتھے کے بل گریں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ! ہمیں معاف کر دے۔ہم سے بہت خطا ہوئی تب تم اسی طرح جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر یہ کہا کہ لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ تم بھی کہو گے کہ جاؤ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے۔گویا وہی الفاظ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمائے تھے اللہ تعالیٰ نے پھر انہی الفاظ کو بطور پیشگوئی نازل کر کے بتا دیا کہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہونا مقدر ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی وہ آیت جس میں ہجرت اور پھر فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی آپ پر بھی الہاما نازل ہوئی یہ آیت کہ إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ " یقیناً وہ عظیم الشان ہستی جس نے تجھ پر قرآن کریم کی اطاعت اور اس کی فرمانبرداری فرض کی ہے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتی ہے کہ تجھے قادیان چھوڑنی پڑے گی لیکن ہم پھر تجھے اسی قادیان میں واپس لائیں گے۔یہی وحی قرآن کریم میں موجود ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم کو مکہ چھوڑنا پڑے گا لیکن ہم پھر تجھے مکہ واپس دلائیں گے۔یہی الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دوبارہ نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ تم کو بھی قادیان چھوڑنی پڑے گی مگر ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم پھر تجھے دوبارہ قادیان واپس لائیں گے۔پھر آپ کا الہام ہے يَأْتِي عَلَيْكَ زَمَنْ كَمَثَلِ زَمَنِ مُوسَى ا یعنی جو کہ موسیٰ علیہ السلام پر گزری وہ تجھ پر بھی گزرے گی اسی طرح آپ کا ایک رؤیا ہے آپ فرماتے ہیں:۔دیکھا کہ میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔نظر اُٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر کشیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے گاڑیوں ، رکھوں کے ہے اور وہ ہمارے بہت قریب آ گیا ہے میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت