انوارالعلوم (جلد 19) — Page 401
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۰۱ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء سے لڑائی ہوگی ۔ اس کے بعد یا جوج اور ماجوج سے لڑائی کرنی پڑے گی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ قَدْ اَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لَاحَدٍ لِقِتَالِهِم هے میں نے دوقو میں ایسی نکالی ہیں جن کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہیں ہو گی فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ پس تو میرے بندوں کو پہاڑ کی طرف لے کر چلا جا۔ یہ پیشگوئی ہے جو مسیح موعود کے متعلق احادیث میں پائی جاتی ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ یہ پیشگوئی بعض دفعہ لفظاً کسی اور شخص کے متعلق ہوتی ہے مگر اس سے مراد اس کی اولا دیا اتباع ہوتے ہیں اس لئے یہ ضروری نہیں کہ مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق جو پیشگوئی کی گئی ہے یہ خود مسیح موعود کے ہاتھ پر پوری ہونے والی ہو چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک موقع پر بیان فرماتے ہیں کہ انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے لیکن بعض رؤیا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعہ سے پورے ہوتے ہیں مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قیصر و کسری کی کنجیاں ملی تھیں تو وہ ممالک حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتح ہوئے ۔ کے گویا ہجرت کے متعلق خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تصریح فرمادی کہ ضروری نہیں کہ یہ بات میرے زمانہ میں ہی ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ میرے کسی بیٹے کے زمانہ میں ہو جائے ۔ بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک وقت میں دوقو میں نکلیں گی اور ان کا جتھ اتنا مضبوط ہوگا کہ ان کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہیں ہو گی ۔ اُس وقت ہم اپنے مسیح موعود کو حکم دیں گے کہ تو ہمارے بندوں کو پہاڑ کی طرف لے جا۔ یہ پیشگوئی ہے جس کے ماتحت ہماری قادیان سے ہجرت ہوئی چنانچہ دیکھ لو تم اپنی مجلسوں میں کیا کہا کرتے ہو کہ کس نے فساد برپا کیا ؟ تم ہمیشہ کہا کرتے ہو ہندوؤں اور سکھوں نے ۔ پس کیا کہا کرتے ہوکہ نے فساد برپا کیا؟ تم ہیشہ کہا کرتے ہو اور نے۔ یہی دوقو میں ہیں جن کے خروج کی احادیث میں خبر دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ اَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ لِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِى إِلَى الطُّور یا جوج اور ماجوج یہ دو قو میں میں نے ایسی نکالی ہیں جن کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہیں ہوگی ۔ چنانچہ واقعات سے اس کا ثبوت بھی مل گیا۔ علاقوں کے علاقے بغیر مقابلہ کئے مسلمانوں نے خالی کر دیئے اور چونکہ اس