انوارالعلوم (جلد 19) — Page 399
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۹۹ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء پیشگوئیوں کے عین مطابق ہوئی۔اب میں اس سوال کو لیتا ہوں جو کئی احمدیوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور کل بھی میں نے اشارہ اس کا ذکر کیا تھا کہ قادیان احمدیوں کے ہاتھ سے کیوں نکلا ؟ بار بار لوگ یہ سوال کرتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں کے جذبات اس قدرا بھرے ہوئے ہوتے ہیں کہ قادیان کا ذکر کرتے ہوئے وہ رو پڑتے ہیں حالانکہ وہ قادیان کے باشندے نہیں ہوتے پھر جو قادیان کے رہنے والے ہیں وہ بھی قادیان سے میری جیسی محبت نہیں رکھ سکتے۔میرے آبا ؤ اجداد پانچ چھ سو سال سے قادیان میں رہتے چلے آئے ہیں اس لئے بہر حال دوسرے لوگوں کو قادیان سے مجھ جیسی محبت نہیں ہو سکتی لیکن میری یہ حالت تھی کہ میں نے جس وقت اپنے بیوی بچوں کو قادیان سے بھیجا ہے اُس وقت میری ایک بچی جس کی والدہ فوت ہو چکی ہے زچگی کی حالت میں تھی۔چلہ کی حالت میں ایک عورت کا لاری میں سوار ہونا بڑا مشکل ہوتا ہے اور پھر قادیان کی جدائی تو اور بھی تکلیف دہ تھی۔وہ مجھ سے ملنے کیلئے آئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے جب وہ بغلگیر ہونے کیلئے آگے بڑھی تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس کو ہٹا دیا اور میں نے اُس سے کہا یہ وقت رونے کا نہیں یہ کام کا وقت ہے نہ میں اس وقت رونے کیلئے تیار ہوں اور نہ تمہیں رونے کی اجازت دے سکتا ہوں بلکہ میں اسے سخت کمزوری سمجھتا ہوں کہ ہم قادیان کیلئے رونے لگ جائیں۔ہم خدا کے آگے روئیں گے اپنے گنا ہوں کیلئے ، ہم خدا کے آگے روئیں گے اپنے دین کی ترقی کیلئے ، ہم خدا کے آگے روئیں گے اس غرض کیلئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں تقویٰ عطا ہو اور دوسرے لوگوں کو بھی تقوی نصیب ہو مگر میں اس بات کو ہرگز پسند نہیں کر سکتا کہ ہم قادیان کیلئے رونے بیٹھ جائیں۔ہم اس وقت رونے بیٹھ گئے تو وہ کام کون کرے گا جو ہمارے سامنے ہیں۔میں نے تو اقرار کیا ہوا ہے کہ قادیان کے غم میں اُسی دن میرا آنسو بہے گا جب اس کے ساتھ دوسرا آنسو اس خوشی میں بہے گا کہ ہم قادیان میں داخل ہو رہے ہیں۔پس ہمارے آنسو رُکے رہنے چاہئیں ، ہمارے دل مضبوط ہونے چاہئیں، ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سپرد ہے ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم عورتوں کی طرح بیٹھ کر رونے لگ جائیں۔وہ ہنڈیا جس کی بھڑاس نکل جاتی ہے اپنا ڈھکنا بھی ہلا نہیں