انوارالعلوم (جلد 19) — Page 382
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸۲ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء میں کہہ سکتا ہوں کہ میرا مطالعہ چاہے وسیع ہو یا نہ ہو میرا غور بہت وسیع ہے ۔ میں اس امر کو ثابت کر سکتا ہوں کہ ملک کی ترقی جائداد اور مال و دولت کی زیادتی میں نہیں بلکہ افراد کی زیادتی میں ہے۔ پاکستان کا علاج یہ نہیں کہ اس کا دو ہزار ایکڑ تین ہزا را یکٹر بن جائے بلکہ پاکستان کا علاج یہ ہے کہ اس کی ۲ کروڑ کی آبادی ۵ کروڑ بن جائے ۔ لوگ کہیں گے کہ یہ پانچ کروڑ کھا ئیں گے کہاں سے؟ یہ ایک لمبا مضمون ہے جس کو اس وقت بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ کمزور ملک کا علاج آبادی بڑھائی جائے لیکن تاریخ اس بات پر شاہد ہے اور بموجب سیاسیات اس بات پر شاہد ہیں کہ کسی کمزور ملک کا سوائے اس کے اور کوئی علاج نہیں کہ اس کی آبادی کو بڑھا دیا جائے ۔ جب کسی ملک پر تنزل آتا ہے اس کی آبادی کم ہو جاتی ہے یہ ایک ایسا موٹا اصل ہے جس پر بیسیوں شواہد تاریخ سے پیش کئے جا سکتے ہیں۔ تاریخ اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ قومی ترقی کے زمانہ میں نسل بڑھتی ہے اور قومی تنزل کے زمانہ میں نسل گھٹتی ہے۔ جب کسی قوم کی اُمنگیں مٹ جاتی ہیں اس کی نسل آپ ہی آپ کم ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ آسٹریلیا کے وحشی ہزاروں کی تعداد میں تھے، امریکہ کے ریڈ انڈین لاکھوں کی تعداد میں تھے ۔ آسٹریلیا نے مارا ہو تو مارا ہو کم سے کم امریکہ نے ریڈ انڈینز کو نہیں مارا مگر ریڈ انڈینز کی نسل آپ ہی آپ گھٹتی چلی گئی یہاں تک کہ اب وہ صرف چند ہزار پائے جاتے ہیں اور آسٹریلیا کے وحشی چند درجن سے زیادہ نہیں ۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ کوئی انہیں خصّی کر دیتا ہے یا مار دیتا ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اُن کی اُمنگیں ماری گئیں ، اُن کی اُمیدیں جاتی رہیں ، اُنہیں اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آیا اس لئے وہ کسی غیر کی تلوار سے نہیں بلکہ اپنی طبیعت کی تلوار سے آپ مارے گئے ۔ پس نسل کا بڑھانا قوم کی زندگی کا موجب ہوتا ہے۔ زمین چاہے ایک ایکڑ بھی نہ ہو تب بھی وہ اپنی روزی پیدا کر لے گا لیکن یہ مضمون اپنے بعض حصوں کی وضاحت کیلئے زیادہ تفصیل اور وقت کا تقاضا کرتا ہے میں نے خلاصہ اس امر کو بیان کر دیا ہے ۔ نسل کو بڑھانا میرے نزدیک ہمیں اس بارہ میں قطعی طور پر پریشان نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان کی زمین کیسی اور کتنی ہے، ہمیں قطعی طور پر روس کی طرف دیکھنے