انوارالعلوم (جلد 19) — Page 381
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸۱ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء تھا بلکہ اسی فیصدی تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی اب وہ ساری تجارت خالی ہے ۔ وہ روپیہ جو ہندو کماتا تھا اسی طرح کماتا تھا کہ کپاس لی اور بیچی ، کپڑا لیا اور بیچا یا اور چیزیں لیں اور الی بیچیں ۔ اب بھی یہ سب چیزیں موجود ہیں اور جو فائدہ ہندو اور سکھ اُٹھاتا تھا اب بھی اُٹھایا جا سکتا ہے۔ اگر اس نکتہ کو سمجھ لیا جائے کہ جس طرح سا ہو کا رکھاتا تھا اس طرح مسلمان بھی کما سکتا ہے تو پندرہ ہیں لاکھ مسلمانوں کیلئے روزگار کا رستہ کھل جاتا ہے۔ مگر اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ کسی نہ کسی وجہ سے زمیندار کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے مثلاً کپاس کی قیمت ۲۲٬۲۱ روپیہ ہونے کے چھ سات روپیہ تک پہنچ گئی ہے۔ گورنمنٹ نے اب اعلان کیا ہے کہ ہم کارخانوں کیلئے کوئلہ مہیا کریں گے۔ مگر غالباً مہیا اُس وقت ہوگا جب جنس ہی ختم ہو جائے گی ۔ فروری میں کارخانے سب بند ہو جائیں گے اور اس اعلان کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے جب دوسرا اعلان ہوگا اُس وقت تک اسی فیصدی کپاس زمیندار بیچ چکے ہونگے ۔ بھلا اُس وقت کسی کام کا فائدہ کیا ہوگا اور زمیندار کو اس سے کیا نفع حاصل ہوگا جو کچھ کرنا تھا گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ فوری طور پر کرتی اور زمینداروں کو نقصان سے بچاتی مگر اُس نے اس طرف توجہ نہیں کی اور زمینداروں کو سخت نقصان ہوا ہے۔ غیرطبعی اور غیر امی کا باری غیر طبعی اور غیر اسلامی سکیمیں اصل بات یہ ہے کہ اس وقت ایسی غیر طبعی اور غیر اسلامی سکیمیں سوچی جا رہی ہیں کہ جن کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں اور یہ سب نقص اس وجہ سے ہے کہ دوسرے کی پکی پکائی چیز کھانے کی مسلمانوں کو عادت ہے خود کبھی اسلام اور قرآن کریم پر غور کرنے کی انہوں نے ضرورت کا شور مچانے میں تو سب سے آگے محسوس نہیں کی ۔ وہ اسلامی حکومت ، اسلامی حکومت کا شور مچانے میں تو سب سے آگے ہوتے ہیں مگر انہوں نے کبھی قرآن کھول کر نہیں دیکھا ہوتا کہ وہ کس قسم کی حکومت دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔ جب سارا اسلام قرآن میں ہے تو ہمیں قرآن کھول کر دیکھنا چاہئے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ آبادی کی کثرت ہی ترقی کا موجب ہے جہاں تک میں نے مختلف ملکوں تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اور