انوارالعلوم (جلد 19) — Page 380
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸۰ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء آدمیوں کو دے دی گئی ہے مگر وہ زمین در حقیقت محفوظ ہوتی محفوظ ہوتی ہے اور وہ انتظار کر رہا ہوتا ہے اُس وقت کا جب اُس کے رشتہ دار اس کے پاس آئیں اور وہ اُنہیں زمین دے۔ پٹواریوں کے کھاتے دیکھے جائیں تو ہزاروں ہزار ایکڑ زمین ایسی نکلے گی جو اُنہوں نے اپنے رشتہ داروں کے لئے رکھ لی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے اس طرح بھی کیا ہے کہ جس وقت یہاں سے لوگ بھاگے اُنہوں نے پٹواریوں سے مل کر اصل کا شتکار کے نام کی بجائے اپنا نام چڑھا لیا۔ پھر اس میں کچھ دست غیب بھی چل رہا ہے۔ بہر حال زمینوں کی جو تقسیم کی گئی ہے اس میں بہت سے نقائص ہیں ۔ اگر اب بھی کسی دیانتدار افسر کو مقرر کیا جائے تو جتنے لوگ آ چکے ہیں ان سب کیلئے یہی زمین کافی ہو سکتی ہے۔ پھر یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ ساری زمین ابھی ۴۸ لاکھ ایکڑ ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ ہے یہ وہ زمین ہے جو پہلے سکھوں اور ہندوؤں کی ملکیت تھی ۔ اس کے علاوہ وہ ہزار ہا ایکٹر بلکہ لاکھ دولاکھ ایکڑ زمین ایسی ہے جو گورنمنٹ کی پراپرٹی ہے سال دوسال کیلئے وہ اس زمین کے ٹھیکے دے دیتی تھی اس میں بھی ہندو اور سکھ زیادہ ٹھیکیدار تھے لیکن بہر حال مالک گورنمنٹ تھی سکھ اور ہندو عارضی ملکیت کے طور پر کام کر رہے تھے وہ زمین بھی پڑی ہے اگر اس کو بھی ملا لیا جائے تو زمین پچاس لاکھ ایکڑ تک پہنچ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ طریق کار کو مد نظر رکھتے ہوئے تقسیم ہونے کے بعد زمین چار پانچ لاکھ ایکڑ بچنی چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ کئی زمیندار ایسے ہیں جن کی مشرقی پنجاب میں کافی زمینیں تھیں ۔ میرے نزدیک ۱۳ فیصدی زمین بڑے زمینداروں کے پاس تھی ، اس کے معنی یہ ہیں کہ چھ لاکھ ایکڑ زمین بیچ جائے گی کیونکہ ان کو اتنی زمین نہیں ملے گی جتنی مشرقی پنجاب میں چھوڑ آئے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ مغربی پنجاب میں سکھوں ، ہندوؤں اور دوسرے غیر مسلموں کی زمین ۷۰ لاکھ تئیس ہزار ایکڑ ۷۰ لاکھ تھی اس کے مقابلہ میں مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کی زمین ۵۸۱ ، ۳۶، ۴۸ ایکڑ تھی گویا جتنی زمین مشرقی پنجاب میں تھی اس سے زیادہ یہاں موجود ہے ۔ اور چونکہ بڑے بڑے زمینداروں کو حصہ نہیں ملنا یا خیال کیا جاتا ہے کہ نہیں ملے گا اگر کسی نے چوری چھپے لے لیا ہو تو اور بات ہے لئے بہر حال یہاں پانچ سات لاکھ ایکڑ زمین بچتی ہے کم نہیں بچتی ۔ پس موجودہ حل موجود ہے پھر میں کہتا ہوں ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ سکھ اور ہند و صرف زمیندار ہی نہیں