انوارالعلوم (جلد 19) — Page 379
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۷۹ تقریر جلسه سالانه ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۷ء فریب کرتا اس کا ہمسایہ فوراً اس کے خلاف رپورٹ کر دیتا۔یہ طبعی بات ہے کہ اگر ایک شخص کو چار ایکڑ زمین مل رہی ہو اور دوسرا فریب سے ۵۸ ایکٹر زمین لے لے تو زمیندار اس کو برداشت نہیں کرسکتا وہ ضرور کوشش کرے گا کہ اس کا پردہ چاک کرے اور اسے اس زمین سے بے دخل کرے۔مگر اب حالت یہ ہے کہ جن کمیوں کے نام پر زمینیں حاصل کی گئی ہیں وہ مثلاً بیٹھے ہیں سیالکوٹ میں اور یہ لائل پور بیٹھا ہے اس نے ان کے نام پر زمینیں حاصل کر لی ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے نام پر زمیندار بن کر زمینیں حاصل کر لی ہیں۔میرے نزدیک یہ تمام نقص ان کو پھیلانے کے نتیجہ میں پیدا ہو رہے ہیں۔کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں ہر خاندان کے جتنے افراد تھے ان کی تعداد سے زیادہ زمین اُنہوں نے لے لی ہے۔دوسرا نقص دوسرا نقص یہ واقعہ ہوا کہ جو غیر کا شتکار تھے حتی کہ تاجر اور وکلاء بھی اُنہوں نے بھی بہانے بنا بنا کر زمین لے لی ہے۔حالانکہ یہ واضح بات ہے کہ یہ زمین کا شتکاروں کو مل سکتی تھی غیر کا شتکاروں کو نہیں۔بے شک وہ لٹے ہوئے آئے ہیں مگر بہر حال زمین کے متعلق جو قانون ہے اُس کی ضرور پابندی کی جائے گی یہ نہیں ہو سکتا کہ کاشتکاروں کا حصہ غیر کا شتکار لے جائیں مگر ہوا یہی کہ تاجر اور وکلاء اور دوسرے لوگ بھی جو غیر زراعت پیشہ تھے اور بہانے بنا بنا کر زمین حاصل کرتے چلے گئے حالانکہ یہ زمین اس طرح تو تقسیم نہیں ہو رہی تھی جس طرح شادی کے موقع پر مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے اور جو جی چاہے لے لیتا ہے یہ تو مصیبت کے وقت مستحقین کی مدد کی جارہی تھی۔گورنمنٹ اپنے حالات کے مطابق کا شتکاروں کی جو زیادہ سے زیادہ مدد کر سکتی تھی وہ کر رہی تھی یہ کسی بادشاہ کے بیٹے کی شادی کی تقریب نہیں تھی کہ غیر کا شتکار بھی زمینیں لینے لگ جاتے بہر حال یہ دوسرا نقص بھی شدید طور پر واقع ہوا۔تیسرا نقص تیسری بات یہ ہوئی کہ بعض جگہ زمینیں محفوظ ہیں مگر دکھایا یہ گیا ہے کہ وہ زمینیں لوگوں کو دے دی گئی ہیں۔یہ کس طرح ہوا ہے اس کے متعلق ایک دو باتوں کا بیان کرنا سیاستاً مفید نہیں ورنہ مجھے وہ جگہیں معلوم ہیں ، وہ زمینیں معلوم ہیں اور میں اس بات کو قطعی شواہد کی بناء پر ثابت کر سکتا ہوں۔مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ جالندھر کا کوئی پٹواری ہے اسے پتہ نہیں کہ اس کے رشتہ دار کہاں کہاں ہیں وہ لکھ کر دے دیتا ہے کہ اتنی زمین چالیس