انوارالعلوم (جلد 19) — Page 378
انوار العلوم جلد ۱۹ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے مسلمانوں کو ان زمینوں پر جگہ دی جائے اور پرانے مسلمانوں کو نکال دیا جائے بہر حال ہمیں وہی زمین لینی پڑے گی جو غیر مسلموں کی کاشت کردہ تھی اور وہ جیسا کہ میں نے بتایا ۱ ۳۶،۵۸، ۴۸ ایکڑ زمین ہے اور وہ افراد جن کو ہم نے بسانا ہے وہ ۳۲ لاکھ ۴ ۷ ہزار ہیں اس میں کوئی مجبہ نہیں کہ جہاں بارانی زمینیں ہیں وہاں بجائے ایک ایکڑ فی کس کے بعض جگہ ڈیڑھ اور بعض جگہ دو ایکڑ فی کس بھی زمین دینی پڑے گی لیکن اگر ایسی زمینوں کو بھی لیا جائے تو ۴۲ لاکھ ایکڑ زمین میں بخوبی گزارہ ہو سکتا ہے پانچ لاکھ ایکڑ زمین پھر بھی بیچ جائے گی گو یا لوگوں کو جس قدر ضرورت ہے اس کا پورا سامان مغربی پنجاب میں موجود ہے۔باقی رہ رہ گئے غیر کا شتکار، ان میں بہت سے تاجر تھے ، بہت سے لوہار اور ترکھان تھے ، بہت سے جولا ہے تھے بہت سے کمہاروں کا کام کرتے تھے، اسی طرح اور کئی قسم کے پیشے انہوں نے اختیار کئے ہوئے تھے یہ ۱۳ لاکھ ۲۴ ہزار ہیں۔ان میں ایسے بھی تھے جو پروفیسر تھے یا وکیل اور بیرسٹر تھے یہ ملازم پیشہ لوگ تھے۔ان میں سے ملازموں کو ملازمت مل گئی ، تا جر تجارت کر سکتے ہیں ، وکیل وکالت کر سکتے ہیں، پیشہ وراپنا اپنا پیشہ اختیار کر سکتے ہیں، بہر حال ۱۳ لاکھ میں سے بہت قلیل ایسے لوگ بچیں گے جن کو زمینوں پر کام کرنے کی ضرورت ہو۔ایسے لوگوں کو وہ زمین دی جاسکتی ہے جو کا شتکاروں کی ضرورت سے زائد ہے اور جو پانچ چھ لاکھ ایکڑ سے کسی صورت میں بھی کم نہیں۔بہر حال جہاں تک زمین کا سوال ہے میرے نزدیک موجودہ مشکل کو حل کرنے میں کسی قسم کی دقت نہیں۔پہلا نقص جو خرابی پیدا ہوئی وہ درحقیقت اس انتظام کی وجہ سے ہوئی ہے جو پناہ گزینوں کو بسانے کیلئے کیا گیا تھا۔اصل میں خرابی کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ بجائے اس کے کہ علاقہ وار انہیں تقسیم کیا جاتا یونہی بے تحاشا انہیں پھیلانا شروع کر دیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض جگہ زمینداروں نے یوں کیا کہ گاؤں کے جتنے کمی تھے اُن کو اپنے گھر کے افراد میں شامل کر لیا۔مثلاً گھر کے چار افراد تھے اور ۲۵ کمی تھے تو انہوں نے ۲۹ افراد لکھوا کر ۲۹ ایکڑ زمین حاصل کر لی یا ۵۸ ایکٹر بارانی زمین حاصل کر لی۔ادھر کمی زمیندار بن کر چلے گئے اور انہوں نے اپنے نام پر زمین حاصل کر لی۔اگر علاقہ وار سب کو بسایا جاتا تو اگر کوئی شخص اس قسم کا