انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 360

انوار العلوم جلد ۱۹ پاکستان کا مستقبل مرحوم کو اس کا خیال آیا تھا اور انہوں نے طبیہ کالج دہلی کے ساتھ ایک چھوٹی سے لیبارٹری اس کام کے لئے مقرر کر دی تھی۔مشہور ہندوستانی سائنسدان چوہدری صدیق الزمان صاحب اس کے انچارج مقرر کئے گئے تھے اور انہوں نے بنگال کی مشہور بوٹی چھوٹی چندن پر تجربات کر کے اس کا الکلائیڈ معلوم کر لیا تھا مگر ہندوستانی روایتی پھوٹ کا شکار محکمہ ہو گیا۔چوہدری صدیق الزمان صاحب کو حکومت ہند میں ایک اچھی جگہ مل گئی اور ان کے جانے کے ساتھ ہی یہ محکمہ بھی ختم ہو گیا۔اب چوہدری صدیق الزمان صاحب حکومت پاکستان میں آگئے ہیں اُن کے مشورہ سے یا اُن کی نگرانی میں اس قسم کا محکمہ پھر کھولا جا سکتا ہے۔شاید ایک لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کے خرچ سے ابتدائی لیبارٹری قائم کی جاسکتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اُس سے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ کا نفع حاصل ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔بعض جڑی بوٹیاں طبی طور پر اتنی مفید ہیں کہ انگریزی دوائیں اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتیں مگر مشکل یہ ہے کہ اُن کے استعمال کا طریق ایسا ہے کہ آجکل کے نزاکت پسند لوگ اس کی برداشت نہیں کر سکتے۔اگر الکلائیڈز اور دوسرے فعال اجزاء نکال لئے جائیں یا ایکسٹریٹ بنائے جائیں تو یقینا نہ صرف طب میں ایک مفید اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی دولت میں بھی ایک عظیم اضافہ ہوگا۔ادویہ کے علاوہ جڑی بوٹیوں میں بعض اور کیمیاوی اجزاء بھی ہیں جو مختلف صنعتوں میں بڑا کام آ سکتے ہیں چنانچہ بہت سی بوٹیوں کے نغدوں کے سے کشتے بنائے جاتے ہیں آخراُن کے اندر ایسے اجزاء ہیں جو کہ دھاتوں کو تحلیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اگر ان کو الگ کر لیا جائے تو نہ صرف کشتے بنانے آسان ہو جائیں گے بلکہ اور کئی قسم کی صنعتیں جاری کرنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔( الفضل لا ہور ۹ / دسمبر ۱۹۴۷ء ) حزقی ایل باب ۴۔آیت ۱۲۔برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لا ہور۱۹۴۳ء دساور: (۱) غیر ملک یا غیر ممالک۔(۲) غیر ملک کی منڈی۔(۳) سوداگری کا مال جو غیر ملک سے آئے۔(۴) وہ جگہ جہاں ہر ایک چیز فروخت کے لئے جمع کریں۔نغدوں: