انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 359

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۵۹ پاکستان کا مستقبل سے دیا سلائی کی تیلیاں بن سکتی ہیں اور یہ درخت اتنی مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ اگر ان سے دیا سلائی کی تیلیاں بنائی جائیں تو نہ صرف پاکستان بلکہ سارے ہندوستان کی ضرورتیں اس سے پوری ہو سکتی ہیں۔ضرورت ہے کہ ایسا کارخانہ بنایا جائے جو بلوچستان میں یہ تیلیاں بنا کر دیا سلائی کے کارخانوں کے پاس فروخت کرے اور یہ صنعت جس کی سب سے بڑی مشکل ان تیلیوں کا مہیا ہونا ہے پاکستان میں فروغ پا سکے۔لکڑی کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں فوراً پلاسٹک کے کارخانے جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہئے مگر چونکہ یہ سوال میری تقریر کے زراعتی حصہ کے ساتھ متعلق ہے میں اس کا ذکر آگے چل کر کروں گا۔جڑی بوٹیاں نباتی دولت کا ایک بڑا جز و جڑی بوٹیاں بھی ہوتی ہیں۔شمالی جڑی بوٹیاں کشمیر، چنبہ ، چترال،صوبہ سرحد اور بلوچستان میں ملتی ہیں۔کشمیر کا سوال مشتہہ ہے اور چنبہ قطعی طور پر انڈین یونین میں شامل ہو چکا ہے اس لئے پاکستان میں جڑی بوٹیاں چترال ، صوبہ سرحد اور بلوچستان میں سے جمع کی جاسکتی ہیں اور پاکستان کی خوش قسمتی سے ان تینوں علاقوں میں کافی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں بلکہ بعض جڑی بوٹیاں ایسی نادر ہیں کہ دنیا کے بعض دوسرے حصوں میں نہیں ملتیں۔بلوچستان کی جڑی بوٹیوں کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ اُن میں الکلائیڈ جو کہ دواؤں کا فعال جزو ہوتا ہے دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ پائے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں بارشیں کم ہوتی ہیں۔جڑی بوٹیوں سے بہت سی ادویہ اور کیمیاوی اجزاء تیار کئے جاتے ہیں ابھی تک ہندوستان کی جڑی بوٹیاں کامل سائنٹیفک تحقیقات سے محروم ہیں اور ہزاروں ہزار مفید ادویہ اور کیمیاوی اجزاء اُن میں مخفی پڑے ہوئے ہیں۔یورپ کے لوگ قدرتی طور پر اُن ادویہ کی تحقیق کرتے ہیں جو اُن کے ملکوں کی جڑی بوٹیوں سے بنائی جاسکتی ہیں یا جو آسانی سے اُن کے قبضہ میں آ سکتی ہیں تا کہ اُن کا تجارتی نفع انہیں کو ملے۔اب پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کے لئے موقع ہے کہ اپنی نباتی دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائے۔اگر ایک محکمہ بنا دیا جائے جو جڑی بوٹیوں کے الکلائیڈز اور دوسرے کیمیاوی اجزاء دریافت کرے تو تھوڑے ہی عرصہ میں بیسیوں کئی دوائیں پاکستان میں ایجاد ہو جائیں گی جو دنیا کی ساری منڈیوں میں اچھی قیمت پر پک سکیں گی۔حکیم اجمل خاں صاحب