انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 355

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۵۵ پاکستان کا مستقبل اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ پاکستان کا مستقبل نباتی ، زرعی ، حیوانی اور معنوی دولت کے لحاظ سے میں نے کے تاریخ کو مینار ڈہال میں اس مضمون پر ایک تقریر کی تھی چونکہ وقت کم تھا اور مضمون زیادہ اس کے کئی حصے بیان کرنے سے رہ گئے تھے اور کئی کھول کر بیان نہ ہو سکے۔چونکہ سننے اور پڑھنے میں فرق ہوتا ہے پڑھتے وقت انسان زیادہ غور سے کام لے سکتا ہے اور مختصر اشاروں کو بھی سمجھ سکتا ہے اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنی لکھی ہوئی مختصر یادداشت کو شائع کر دوں تا کہ مضمون کا ایک مکمل نقشہ بھی ذہن میں آجائے اور یادداشت کے طور پر بھی ان لوگوں کے ہاتھ میں رہے جو اس میں بیان کردہ مضامین پر مزید غور کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان کا مستقبل بحیثیت نباتی دولت کے ملک کی حفاظت اور اس کی ہا ترقی کے لئے سوختنی اور تعمیری لکڑی کا وجود نہایت ضروری ہے۔سوختنی لکڑی کو گلے کا بھی کام دے سکتی ہے۔پرانے زمانہ کے تمام بڑے شہروں کے اردگر سوختنی لکڑی کے رکھ بنائے جاتے تھے جہاں سے شہروں کولکڑی مہیا کی جاتی تھی اور قصبات میں زمینداروں کے ذمہ لگایا جاتا تھا کہ وہ درخت لگائیں اور انہیں چھوٹے درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی تا کہ لکڑی ضائع نہ ہو۔ہر گاؤں میں اتنے درخت ہوئے جاتے تھے کہ اس گاؤں کی سوختنی اور تعمیری ضرورتیں ان سے پوری ہو سکتی تھیں۔انگریز چونکہ ایک صنعتی ملک کے رہنے والے ہیں ان کی حکومت کے زمانہ میں دیہات کی