انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 14

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر کے لئے سامان خورد و نوش مہیا کرے۔ایسے علاقہ کے لوگ اگر مہمان نوازی نہیں کریں گے تو ان کے لئے بھی سفر کرنا مشکل ہو جائے گا۔فرض کرو ایک قبیلہ یا خاندان کے الف ب ج د ھ و افراد سومیل کے اندر پھیلے ہوئے ہیں ان کو کبھی نہ کبھی سفر ضرور کرنا پڑے گا۔کسی کا بیٹا کہیں بیاہا ہوگا اور وہ اس کو ملنے جائے گا، کوئی تجارت کے لئے سفر کرے گا، کوئی سیر کی غرض سے سفر اختیار کرے گا اور کوئی کسی اور غرض کے ماتحت۔یہی حالت عربوں کی تھی وہ جب ایسے سفر کے لئے نکلتے تھے تو ان کے ساتھ سامان خور و نوش تو ہوتا نہیں تھا اور نہ ہی کسی جگہ ہوٹل یا ریسٹورنٹ ہوتے تھے کہ ان میں قیام کر لیا جائے ایسی صورت میں یہی ہو سکتا تھا کہ جو قبیلہ رستہ میں آئے اس کے پاس ٹھہر جاتے اور وہ ان کے لئے سامان خور و نوش مہیا کرتا ، ان حالات میں اگر وہ قبیلہ کہہ دیتا کہ ہم کیوں کسی کو روٹی دیں یا بستر دیں تو کل کو اسے بھی سفر کرنا پڑتا اور تکلیف کا سامنا ہوتا۔پس جو مشکلات سفر کے لئے الف کو تھیں وہی ب کو بھی تھیں اسی طرح وہی مشکلات ج ، د ، ہ اور و کو بھی تھیں اگر الف اپنے مہمانوں کو کھانا کھلانے سے انکار کر دے مثلاً وہ ب کو کھانا نہ کھلائے تو اس سے صرف ب کو ہی تکلیف نہ ہوگی بلکہ کل کو الف کو بھی ہوگی پس ان حالات میں لازمی طور پر الف مجبور ہے کہ ب ج د ه اورو کے آدمیوں کی مہمان نوازی کرے ب مجبور ہے الف ج د ه اور و کے آدمیوں کی مہمان نوازی کرے ج مجبور ہے الف ب ہ اور و کے آدمیوں کی مہمان نوازی کرے اسی طرح دہ اور و مجبور ہیں کہ وہ اپنے مہمانوں کی مہمان نوازی کریں۔اگر الف ب کی مہمان نوازی نہ کرے تو کل ب الف کی نہیں کرے گا پس ان کا یہ فعل فورسنر آف ایوینٹس ( Forces of Events) کی وجہ سے تھا ان کے حالات ہی اس قسم کے تھے کہ وہ اس فعل کے لئے مجبور تھے۔اگر وہ مہمان نوازی نہ کرتے تو ان کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا۔سامان خوردو نوش کوئی شخص اپنے ساتھ لے کر چلتا نہ تھا ، ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہوتے نہ تھے ایسی صورت میں اگر مہمان نوازی نہ کی جائے تو بہت زیادہ وقت پیش آتی ہے۔پس کسی قوم کا ایسے حالات کے ماتحت کوئی صفت اپنے اندر پیدا کرنا کہ وہ اس کے لئے مجبور ہوا سے ہم جبری تو کہیں گے پالا رادہ نہیں کہیں گے اور یہ فعل حسن تو کہلائے گا لیکن خلق فاضل نہ ہوگا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کفار کے ایک قول کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے