انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 341

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۳۴۱ الفضل کے اداریہ جات والے محکمہ کا مرکز لا ہور ہے اور اس کا انچارج ایک دوسرا منسٹر ہے جو نہایت دیانتداری سے بلا تفریق مذہب و ملت پاکستان کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کوشش کر رہا ہے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ میں کراچی اس غرض کے لئے گیا تھا کہ قائد اعظم اور محترم لیاقت علی خان سے مل کر اس تجویز کی منظوری لوں خدا تعالیٰ نے اس الزام کو اس طرح جھوٹا کر دیا ہے کہ با وجود اس کے کہ مجھ سے بعض لوگوں نے خواہش کی کہ میں قائد اعظم سے ملوں اور بعض امور کا جن کو وہ نہایت اہم سمجھتے تھے اور جن کے متعلق ان کو یہ یقین تھا کہ اُن کے بارہ میں میرے خیالات صحیح ہیں تذکرہ قائد اعظم سے کروں۔میں نے اس بات سے انکار کیا اور اُن سے کہا کہ قائد اعظم پر آجکل جو ذمہ داریاں ہیں اُن کے ہوتے ہوئے غالباً میرا اُن سے ملنے کی کوشش کرنا شاید درست نہ ہوگا اور شاید مفید بھی نہ ہو۔غرض کراچی کے قیام کے دوران میں نہ میں قائد اعظم سے ملا نہ محترم لیاقت علی خان سے اور نہ میں نے اُن سے ملنے کیلئے درخواست کی۔قائد اعظم سے جو لوگ ملتے ہیں گورنمنٹ کے اعلانوں میں اُن کے نام شائع ہوتے رہتے ہیں چونکہ یہ معترضانہ مضامین میری واپسی پر لکھے گئے ہیں اُس وقت تک ہر اخبار نو لیس کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ نہ میں قائد اعظم سے ملا ہوں نہ محترم لیاقت علی خان سے ملا ہوں۔پس پرتاب کا جھوٹ اُن پر کھل چکا تھا۔مزید یہ کہ میں سفر کراچی میں کسی اور وزیر سے بھی نہیں ملا۔صرف ایک دعوت میں وزیر خزانہ سے میں نے مصافحہ کیا ہے وہ دعوت میں آئے تھے اور کھانے کے کمرہ سے نکلتے وقت دروازہ میں ایک دوست نے ہمیں آپس میں انٹروڈیوس کرایا تھا۔قادیان اور مسئلہ کشمیر اب میں اعتراضات کے دوسرے حصہ کو لیتا ہوں جو یہ ہے کہ سر ظفر اللہ نے مسٹر آ ئنگر سے کوئی سمجھوتہ کیا ہے کہ قادیان احمد یوں کومل جائے تو کشمیر کے بارہ میں وہ زور نہیں دیں گے۔مجھے تعجب ہے کہ کوئی ذمہ دار آدمی بھی یہ بات کس طرح لکھ سکتا ہے۔وزارت کا عہدہ بے شک بڑا عہدہ ہے لیکن کوئی وزیر بھی اپنی طرف سے کوئی معاہدہ نہیں کر سکتا جب تک کیبنٹ اس کی رضا مندی نہ دے۔سرظفراللہ باوجود وزیر خارجہ ہونے کے سیکیورٹی کونسل یا انڈین یونین کی کوئی اہم بات نہیں مان سکتے جب تک پاکستان کی حکومت اس کی تصدیق نہ کرے۔قادیان کے بالمقابل کشمیر دینے کی رضامندی