انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 13

انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر صفت ان کے اندر انفرادی نہ تھی بلکہ قومی تھی۔میں نے کل کے مضمون میں بتایا تھا کہ منیر الحصنی صاحب نے اپنی تقریر میں یہ بیان کیا تھا کہ بعض مناقب عربوں کے اندر پائے جاتے تھے اور معترض نے سوال کیا تھا کہ آیا وہ مناقب عربوں کے اندر شخصی تھے یا قومی اگر تو وہ شخصی تھے تو اس قسم کے مناقب ہر قوم میں پائے جاتے ہیں اور اگر وہ قومی تھے تو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانہ کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ في البر و البحر اس پر حرف آتا ہے میں نے بتایا تھا کہ کسی اچھی یا بظا ہر اچھی نظر آنے والی صفت کے متعلق یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ شخصی ہے یا قومی بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے پس پردہ اس شخص یا قوم کے اندر کون سے جذبات کام کر رہے ہیں۔مثلاً ہم دیکھیں گے کہ قرآن کریم نے جو نقطہ نگاہ کسی کام کی اچھائی یا بُرائی معلوم کرنے کے لئے پیش کیا ہے اس کے معیار کے مطابق وہ فعل اچھا ہے یا نہیں اگر نہیں تو اس فعل کا کسی قوم کے اندر پایا جانا اخلاق فاضلہ نہیں کہلا سکتا اس کا نام زیادہ سے زیادہ ہم فعل حسن رکھ سکتے ہیں اور فعل حسن کا پایا جانا جس کے پیچھے بعض اغراض کام کر رہی ہوں قرآن کریم اور اسلام کے دعوی کے خلاف نہیں ہوسکتا۔میں نے اکرام ضیف کی مثال دی تھی کہ یہ خوبی عربوں کے اندر عام پائی جاتی تھی اور اس کثرت کے ساتھ تھی کہ گویا یہ صفت ان کے ساتھ وابستہ ہو چکی تھی اور وہ غیر ارادی طور پر اس کے لئے مجبور ہو چکے تھے۔لیکن میں نے بتایا تھا کہ فعلِ حسن اور اخلاق فاضلہ میں فرق کیا ہے کسی قوم کے اندر کسی ایسی صفت کا پایا جانا جس کے پیچھے ان کے سیاسی اغراض اور مفاد کام کر رہے ہوں فعل حسن تو کہلائے گا لیکن اخلاق فاضلہ نہیں کہلا سکتا۔عربوں کا یہ فعل اس لئے نہ تھا کہ وہ خلق خدا کی خدمت کرتے تھے بلکہ وہ اپنے مخصوص حالات کے ماتحت اپنے اقتصادی فائدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے مجبور تھے کہ وہ مہمان نوازی کرتے۔عرب لوگ چونکہ خانہ بدوش تھے اور خانہ بدوشوں کے پاس ہوٹل اور ریسٹورنٹ تو ہوتے نہیں کہ اگر سفر در پیش ہو تو ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں قیام کر لیا جائے ان کی تو یہ حالت تھی کہ آج یہاں اور کل وہاں ایسے علاقہ میں جب سفر کرنا پڑ جائے تو سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ کسی قبیلہ کے پاس قیام کیا جائے اور جب کسی قبیلہ کے پاس قیام کیا جائے گا تو اس کے لئے ضروری ہوگا کہ اپنے مہمانوں