انوارالعلوم (جلد 19) — Page 12
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر شرارت ظاہر کرے چنانچہ میں نے ان تصاویر کے متعلق جس قدر اندازے لگائے ان میں سے اکثر غلط نکلے۔اب دیکھو تصویر کو دیکھ کر انسان اندازہ لگاتا ہے کہ شکل تو اچھی ہے مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ شکل والا خود اچھا نہیں ہوتا۔پس فعل حسن اور چیز ہے اور اخلاق اور چیز ہے۔کوئی فعل اپنی ذات میں اچھا ہو اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا گیا ہو تم ہم اس کو تو خلق کہیں گے لیکن جو فعل اپنی ذات میں تو اچھا ہو لیکن مجبوری کے ماتحت ہو تو گو وہ فعل حسن کہلائے گا لیکن خُلق نہیں کہلا سکتا۔اسی طرح بعض افعال بظاہر بُرے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اچھے ہوتے ہیں۔مثلاً میں نے پہلے بھی بارہا بیان کیا ہے کہ باپ کے سر پر جھو تی مارنا بہت بڑا گناہ ہے لیکن اگر کوئی شخص دیکھے کہ باپ کے سر پر سانپ چڑھ رہا ہے اور اُس کے پاس اُس وقت سوائے جوتی کے اور کوئی چیز موجود نہ ہو جو سانپ کو ماری جائے اور وہ جوتی ہی اُٹھا کر باپ کے سر پر مار دے تو اس کا یہ فعل بُرا نہ ہوگا بلکہ اچھا ہوگا کیونکہ اگر وہ جوتی نہ مارتا تو سانپ اس کے باپ کو ڈس لیتا اور وہ ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح ہمیں عربوں کی مہمان نوازی کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کن حالات کے ماتحت تھی آیا وہ کسی قسم کے طبعی یا اقتصادی فوائد کے پیش نظر تھی یا وہ خدا کے حکم کے ماتحت ایسا کرتے تھے اور وہ خدا کے بندوں کو مستحق سمجھ کر رزق کھلاتے تھے اور ان کے پیش نظر اعلیٰ درجہ کے مقاصد تھے۔ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ وہ اس مہمان نوازی کے لئے مجبور تھے اور ان کے پیش نظر بنی نوع انسان کی خدمت ہرگز نہ تھی۔اسی طرح اور بھی بہت سی باتیں ایسی ہیں جو بظاہر اچھی نظر آتی ہیں مگر در حقیقت وہ بُری ہوتی ہیں یا بظاہر بُری معلوم ہوتی ہیں مگر درحقیقت وہ اچھی ہوتی ہیں مگر یہ ایک لمبا مضمون ہے جو ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتا اس لئے میں پھر کسی وقت اس کے متعلق بیان کروں گا۔حضور نے فرمایا:۔۲۷ رمئی ۱۹۴۷ء میں کل یہ بیان کر رہا تھا کہ جہاں تک بعض اچھے کاموں کا یا بظاہر اچھے نظر آنے والے کاموں کا سوال ہے عربوں کے اندر بعض خوبیاں ضرور پائی جاتی تھیں مثلاً میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ عربوں کے اندرا کرام ضیف کی صفت تھی یعنی وہ مہمان نوازی کرتے تھے اور یہ