انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 326

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۲۶ الفضل کے اداریہ جات ڈومینینز سے باہمی مشورہ کر لیا کریں گے گویا اُنہوں نے صرف دو گہرے دوستوں کی طرح ایک دوسرے کو راز دار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اُن میں سے ایک دوسرے کا افسر ہوگا۔پس اُنہوں نے اپنی آزادی فروخت نہیں کی ، دوستی مول لی ہے اور دوستی کا مول لینا قطعاً آزادی کا فروخت کرنا نہیں کہلا سکتا۔جب یہ میرا خیال دنیا کی آزاد کہلانے والی حکومتوں کے متعلق بھی رہا ہے تو میں اس نظریہ پر کس طرح تسلی پا سکتا ہوں کہ جو ملک پہلے متحد تھے اُن کو پھاڑ پھاڑ کر اور تقسیم کر دیا جائے۔یہ میں مانتا ہوں کہ کبھی ایک ملک یا قوم یا مذہب کے باشندوں کی عزت اور آبرو اور مالی حالت بعض دوسروں قوموں یا ملکوں کے ہاتھ میں اس بُری طرح آ جاتی ہے کہ وہ پھنسی ہوئی قوم آزادی کا سانس لینے کے قابل ہو ہی نہیں سکتی۔جب تک کہ اُسے دوسرے کے قبضہ سے نکال کر باہر نہ کیا جائے۔اور میرے نزدیک یہی حالت مسلمانوں کی اس وقت ہندوستان کی تھی لیکن اس حالت کے بدل جانے پر اور مسلمانوں کا ایک علیحدہ وجود بن جانے پر اگر کوئی ایسی صورت نکل سکے کہ پاکستان اور ہندوستان اپنی آزادیوں کو قائم رکھتے ہوئے پھر متحد ہو جائیں تو اس سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ایسا متحدہ ہندوستان یقیناً ایشیاء میں ایک بہت بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔میرے نزدیک مسلمانوں کو جو کچھ چاہئے وہ یہ ہے کہ بوجہ اس کے وہ ہندوستان میں دس کروڑ کے قریب ہیں۔ایک ایسا ملک اُن کو مل جائے جس میں وہ اپنی تہذیب اور اپنے تمدن کو آزادانہ طور پر ترقی دے سکیں اور اپنی گری ہوئی اقتصادی حالت کو سُدھار سکیں۔اگر ایسا ہو جائے اور جب ایسا ہو جائے تو پھر وہ اپنے ملک اور ہمسایہ ملک کی عزت اور رتبہ کی ترقی کیلئے اگر اُس ملک سے کوئی سمجھوتہ کریں اور کسی ایسی صورت کا اُس کے ساتھ تصفیہ کر لیں جس سے وہ دونوں ملک ایک قسم کی یونین کی صورت اختیار کر لیں بغیر اس کے کہ ان دونوں ملکوں میں سے کسی ایک کی آزادی میں بھی کوئی فرق آتا ہو اور پاکستان اس قابل رہے کہ وہ اسلامی سیاسیات میں آزادی سے حصہ لے سکے اور مسلمان ممالک کی تائید ہر میدان میں کر سکے تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسے اتحاد کا نتیجہ نہ صرف یہ کہ دونوں ملکوں کی عزت اور نفوذ کے بڑھنے کی صورت میں پیدا ہوگا بلکہ وہ ساڑھے چار کروڑ مسلمان جو ہندوستان میں رہتے ہیں اُن کی جانیں بھی زیادہ محفوظ ہونگی اور وہ عزت کے ساتھ