انوارالعلوم (جلد 19) — Page 320
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۲۰ الفضل کے اداریہ جات کے ساتھ ان کا واسطہ نہیں۔یہ پانچ علاقے ہیں اگر ہندوستان کی حکومت کا فیصلہ کرنے سے پہلے سندھ، پنجاب اور نارتھ ویسٹرن پر اونس کی رائے کو ہندوستان کے دوسرے لوگوں کی رائے سے علیحدہ رکھنے کی اہمیت تسلیم کی گئی تھی تو کوئی وجہ نہیں کہ ان لوگوں کی رائے بھی علیحدہ علیحدہ نہ لی جائے۔پس ہمارے نزدیک میر پور، ریاسی اور پونچھ کی رائے شماری الگ ہونی چاہیے اور بالغ افراد کے حق رائے شماری پر اس کی بنیاد ہونی چاہئے۔اسی طرح ضلع جموں اور ضلع اور دھم پور کی رائے شماری الگ ہونی چاہئے۔ضلع مظفر آباد کی الگ ہونی چاہئے اور کشمیر ویلی کی الگ ہونی چاہئے اور بارہ مولا کی اوپر کی پہاڑیوں کے باشندوں کی جو گلگت اور تبت تک چلے جاتے ہیں الگ رائے شماری ہونی چاہئے۔اگر کسی ملک کے تمام باشندوں کی اکٹھی رائے شماری ہی قانون ہے تو ہندوستان میں ہندوؤں کی رائے مسلمانوں سے زیادہ تھی تو پھر پاکستان کے علیحدہ کرنے کا حق کس طرح پیدا ہوا۔اگر پاکستان کو علیحدہ کرنے کا حق جائز حق تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ جموں اور ریاست کشمیر کے اندر بسنے والے پانچ علاقوں کا الگ الگ حق نہ سمجھا جائے۔یہ لوگ رائے دینے کے بعد پھر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا وہ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں یا الگ حکومتیں قائم کرنا چاہتے ہیں۔موجودہ حالات کے لحاظ سے ہم سمجھتے ہیں کہ یقیناً پونچھ ، ریاسی اور میر پور پاکستان میں شامل ہو جائیں گے۔اسی طرح مظفر آباد بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دے گا اور بارہ مولا سے اوپر کے پہاڑی لوگ جن کی سرحد روس اور چین کی سرحد سے ملتی ہے ، وہ بھی یقیناً پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے۔ان علاقوں کا بدھ بھی مسلمانوں کے ساتھ ہے ڈوگروں کے ساتھ نہیں۔ریاست کی مدد سے وہاں کی تمام تجارت سکھوں کے قبضہ میں ہے اور ان کی لوٹ مارا نتہاء کو پہنچ چکی ہے۔نہایت سستی قیمتوں پر چیزیں خریدی جاتی ہیں اور میں گنے زیادہ قیمت پر لا کر کشمیر اور پنجاب میں بیچی جاتی ہیں حالانکہ یہ تجارت وہاں کے باشندوں کا حق ہے جو بدھ اور مسلمان ہیں مگر حکومت کی مشینری ان لوگوں کو آگے نہیں آنے دیتی۔کوئی وجہ نہیں کہ ان لوگوں کو جب وہ نسلی اور لسانی طور پر باقی کشمیر کے لوگوں سے الگ ہیں ، آزادانہ طور پر رائے دینے کا حق نہ دیا جائے اور اگر ان کے ملک کی رائے دوسرے صوبوں سے الگ فیصلہ کرے تو ان کو علیحدگی کا حق نہ دیا جائے۔پاکستان نے جو حق اپنے لئے مانگا تھا کوئی وجہ نہیں کہ وہی حق