انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 319

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۳۱۹ الفضل کے اداریہ جات دلائیں۔کبھی اخبارات حق پر ہوتے ہیں اور کبھی حکومت حق پر ہوتی ہے ان دونوں کی آزادانہ رائے ایک دوسرے کی رائے کی اصلاح کر کے ملک کی بہتری کا موجب ہوتی رہتی ہے۔پس ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ہمارے مخلصانہ خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی ایسی غلطی نہیں کرے گی جو آئندہ پاکستان کے لئے نقصان کا موجب ہو جائے اور جس کی وجہ سے کشمیر اور صوبہ سرحد کے مسلمانوں سے اس کے تعلقات بگڑ جائیں۔پاکستان اس سے پہلے کشمیر کے متعلق یہ تجویز پیش کر چکا ہے کہ ہندوستان یونین کی فوجیں وہاں سے واپس بلا لی جائیں اور ادھر پاکستان اپنا اثر اور رسوخ استعمال کر کے افغان قبائل کو وہاں سے واپس لوٹنے پر مجبور کرے۔اس کے بعد ایک آزاد ماحول کے ماتحت ریاست کشمیر اور جموں کے لوگوں سے رائے لی جائے۔پھر جس طرف ان کی اکثریت ہو اس کے مطابق کشمیر کی حکومت کا فیصلہ کیا جائے۔یہ تجویز بالکل معقول اور انصاف کے مطابق اور دُوراندیشانہ تھی۔اگر یہی تجویز اس وقت پاس ہوئی ہے تو ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے بشرطیکہ ایک اور امر کا بھی اس میں خیال رکھا جائے اور وہ یہ ہے کہ جموں اور کشمیر میں بسنے والی قوم ایک نہیں جموں اور کشمیر کی قومیں اسی طرح مختلف مذہب اور مختلف نسل رکھتی ہیں جس طرح کہ ہندوستان کی قو میں۔جموں کا ڈوگرہ الگ نسل سے تعلق رکھتا ہے اور الگ مذہب سے تعلق رکھتا ہے ، جموں کا مسلمان الگ نسل اور الگ مذہب سے تعلق رکھتا ہے، ریاسی اور میر پور کا مسلمان بالکل الگ قوم اور نسل کا ہے ، مگر ایک حد تک پونچھ کے لوگوں سے اس کا تعلق ہے۔پونچھ، میر پور اور ریاسی کے مسلمانوں کو ایک گروپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔اِن لوگوں کی رشتہ داریاں راولپنڈی ، جہلم اور گجرات کے ساتھ ہیں۔کشمیر ویلی کے مسلمان بالکل علیحدہ ہیں ان کی زبان اور ہے اور ان کی قوم اور ہے اور ضلع مظفر آباد کے لوگ بالکل الگ قوم کے ہیں وہ ہزارہ کے لوگوں سے رشتہ داری رکھتے ہیں اور سواتی قوم سے ان کے تعلقات ہیں اس لئے وہ پٹھانوں کی طرف زیادہ مائل ہیں یہ نسبت پونچھوں اور کشمیریوں کے۔بارہ مولا کے اوپر کے علاقے پہاڑی ہیں اور گلگت تک ان علاقوں کی بسنے والی قو میں ایک طرف تو چینی نسل کے اثرات کے نیچے ہیں تو دوسری طرف افغانی نسل کے اثرات کے نیچے ہیں۔بہر حال یہ قومیں مخلوط ہیں مگر کسی صورت میں بھی ڈوگروں یا کشمیر یوں