انوارالعلوم (جلد 19) — Page 318
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۱۸ الفضل کے اداریہ جات ہے، اس کو دیکھتے ہوئے پٹھان کبھی بھی تسلی نہیں پاسکتے کہ اس قسم کے ظالم لوگ ان کی سرحد پر آ بسیں اور ان کے معاملات میں دخل اندازی کرتے رہیں۔پس کسی قسم کی صلح کی گفتگو سے پہلے پٹھان قبائل سے رائے لینا نہایت ضروری ہے۔پٹھان قبائل کچھ تو آزاد ہیں اور کچھ نیم آزاد اور ان کا تعلق پاکستان سے ایک رنگ میں اتحادی تعلق ہے۔دنیا کی حکومتیں کبھی بھی اپنے اتحادیوں سے رائے لئے بغیر کوئی قدم نہیں اُٹھایا کرتیں کیونکہ اگر وہ ایسا کریں تو پھر اتحاد بے معنی ہو جاتا ہے اور اس سے نیک نتائج کا پیدا ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔اسی طرح گو کشمیر کی آزاد تحریک کو اس وقت تک پاکستان نے تسلیم نہیں کیا لیکن اس سے مشورہ لینا بین الاقوامی قانون کے خلاف نہیں۔حال ہی میں سپین کی ایسی حکومت جس کے پاس سپین کے ملک کا ایک انچ بھی نہیں ہے، اس کے ایک وزیر کو حکومت برطانیہ کے بعض عہدہ داروں نے بلایا اور اس سے مشورہ لیا۔سپین کی گورنمنٹ نے اس پر احتجاج بھی کیا لیکن حکومت برطانیہ نے اس کی پرواہ نہیں کی۔اس سے پہلے اسی آزاد حکومت سے فرانس کے وزراء مشورے کر چکے ہیں۔پس گو کشمیر کی آزاد حکومت پاکستان کے نزدیک ایک تسلیم شدہ حکومت نہیں لیکن سیاسی رواج کے مطابق ان سے غیر آئینی گفتگو کرنا پاکستان کے لئے منع نہیں اور کشمیر کے متعلق کسی فیصلہ سے پہلے ان لوگوں کے خیالات کا معلوم کرنا نہایت ضروری ہے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو کشمیر کی آبادی کا وہ حصہ جو شیخ عبداللہ کے ساتھ ہے وہ تو پہلے ہی پاکستان کا مخالف ہے ، اس غلطی کی وجہ سے وہ حصہ بھی مخالف ہو جائے گا جو اس وقت پاکستان کے حق میں ہے اور پاکستان کی سرحد نہ صرف حکومت کے تعلقات کے لحاظ سے بلکہ رعایا کے تعلقات کے لحاظ سے بھی غیر محفوظ ہو جائے گی۔ہم پھر یہ کہہ دینا چاہتے ہیں کہ اس وقت تک جو خبریں ہیں وہ غیر سرکاری ہیں ممکن ہے وہ جھوٹی ہوں اور خدا کرے وہ جھوٹی ہوں لیکن چونکہ یہ خطرہ ہے کہ ان کے اندر کوئی سچائی بھی پائی جاتی ہو اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم وقت سے پہلے حکومت اور پبلک کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلا دیں۔بڑے بڑے سمجھ دار بعض دفعہ غلطیاں کر جاتے ہیں اور حکومت کے وزراء کا اندرونی اور بیرونی حالات سے واقف ہونا اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا کہ وہ کبھی غلطی نہیں کریں گے جمہوری حکومتوں میں اخبارات کا یہ حق سمجھا جاتا ہے کہ وہ حکومت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ