انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 316

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۱۶ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کشمیر کے متعلق صلح کی کوشش آج کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کے متعلق صلح کی گفتگو ہو رہی ہے اور یہ بھی انہی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی میں شیخ عبداللہ صاحب کو اس غرض کیلئے بلایا گیا ہے۔خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صلح اس اصول پر ہو رہی ہے کہ پاکستان زور دے کر قبائلی لوگوں کو واپس کرا دے۔ہندوستان کی فوج کی واپسی کا کوئی ذکر نہیں۔مسٹر گاندھی بھی بہت خوش نظر آتے ہیں کہ صلح کے امکانات روشن ہو رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ لارڈ مونٹ بیٹن کی کوشش سے ہندوستان میں امن کے قیام کی صورت نکل آئے گی۔شرائط صلح جو بتائی گئی ہیں وہ کشمیر کے مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک ہیں۔کشمیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں کی ہیں وہ ایسی نہیں کہ ان کو یونہی نظر انداز کر دیا جائے۔خصوصاً پونچھ کے مسلمانوں نے سر دھڑ کی بازی لگا دی ہے کوئی ایسا سمجھوتہ جو ان کے حقوق کی حفاظت نہ کرے یقیناً پونچھ کے بہادر جانبازوں کی زندگی ختم کرنے والا ہو گا۔اس جنگ کے بعد اگر کشمیر پر کوئی ایسی حکومت قابض ہوئی جو ڈوگرہ راج کے تسلسل کو جاری رکھنے والی ہوئی یا جس میں آزاد مسلمانوں کا عنصر بڑی بھاری تعداد میں نہ ہوا تو پونچھ ، میر پور اور ریاسی کا بہادر مسلمان ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا وہ کسی صورت میں زندہ نہیں رہ سکتا۔خدا کرے کہ یہ خبر غلط ہو لیکن چونکہ پاکستان گورنمنٹ کی طرف سے اس کے خلاف کوئی اعلان نہیں ہوا اس لئے ہمیں شبہ ہے کہ یہ خبر اگر ساری نہیں تو کچھ حصہ اس کا ضرور سچا ہے۔پاکستان گورنمنٹ نے بار بار اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لے رہی اور اگر یہ بات درست ہے تو پاکستان گورنمنٹ کو آزاد کشمیر تحریک کے راستہ میں روڑے اٹکانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔پبلک کی ہمدردیاں آزاد ملکوں میں ہمیشہ ایسے ممالک کے حق میں جاتی ہیں جن سے کہ ان کا کوئی تعلق ہوتا ہے۔انگلستان، یونائیٹیڈ سٹیٹس امریکہ، فرانس، جرمنی