انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 10

انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر ایسی حالت میں پہنچا جبکہ وہ ایک سفر میں تھا جب اُس نے دیکھا کہ میرے پاس اور کوئی چیز مہمان کو کھلانے کے لئے نہیں ہے تو اس نے اپنی اونٹی ذبح کر دی جس پر وہ سفر کر رہا تھا۔پس جب عربوں میں بھی مہمان نوازی پائی جاتی تھی تو اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ عربوں کی مہمان نوازی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہمان نوازی میں کیا فرق ہوا۔عربوں کے اندر یہ خوبی پائے جانے کے باوجود حضرت خدیجہ آپ سے کہتی ہیں کہ آپ کے اندر مہمان نوازی کی خوبی بھی پائی جاتی ہے جو عربوں میں نہیں ہے حالانکہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے عربوں کی مہمان نوازی کا ذکر فرمایا ہے فرماتا ہے يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَا لا تبدا لے یعنی وہ فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوم کے لئے ڈھیروں ڈھیر روپیہ خرچ کیا ہے۔پس عرب لوگ فخر کیا کرتے تھے کہ ہم مہمان نواز ہیں مگر ان کی مہمان نوازی کے پیچھے جو روح کام کرتی تھی اگر اس کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مہمان نوازی بعض حالات کے ماتحت تھی وہ بدوی لوگ تھے اور سفر کرتے رہتے تھے اس لئے وہ اپنے حالات کے ماتحت مجبور تھے کہ یہ خوبی اپنے اندر پیدا کرتے ان کی اس خوبی کے پیچھے یہ روح کام نہ کر رہی تھی کہ ان کو بنی نوع انسان کی خدمت کا خیال تھا یا بھوکے اور فاقہ مستوں کا پیٹ بھرنے کا خیال تھا اور نہ ہی ان کے دلوں کے اندر یہ جذبہ پایا جاتا تھا کہ وہ خدا کے بندوں کو رزق کھلا رہے ہیں بلکہ ان کا نقطہ نگاہ یہ تھا کہ ہم کھلائیں گے تو کوئی دوسرا ہمیں بھی کھلائے گا اور وہ کھلائیں گے تو ہم بھی کھلائیں گے۔ہمارے مولوی سید سرور شاہ صاحب یہاں بیٹھے ہیں یہ ہزارہ کے رہنے والے ہیں۔ان کے ہم وطن جلسہ پر آتے ہیں تو واپس جاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لائیے ہمارا کرایہ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے علاقہ میں ریل نہیں اور لوگ جنگلوں میں سفر کرتے ہیں اور چونکہ جنگلوں میں ڈاکے اور لوٹ مار کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے لوگ سفر پر جاتے وقت اپنے ساتھ بستر یا نقدی وغیرہ نہیں لے جاتے اور جہاں ان کو شام ہو جاتی ہے وہیں کوئی نزدیک گاؤں دیکھ کر کسی کے گھر چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لاؤ روٹی اور پھر چلتے ہوئے اُس سے اپنی ضرورت کے لئے روپیہ بھی لے لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے علاقہ میں ہر شخص کے گھر میں بیسوں بستر اور چار پائیاں موجود ہوتی ہیں اور ہر شخص سمجھتا ہے کہ خواہ کتنے بھی مہمان آجا ئیں اُن کو روٹی