انوارالعلوم (جلد 19) — Page 300
انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات مسلمان مجرموں اور ان افسر مجرموں کو پکڑ کر ان پر مقدمات چلائے گئے ہوں جنہوں نے یہ حرکات کیں۔جن لوگوں نے ہندوؤں اور سکھوں پر ظلم کیا ، ان کو مارا ، اُن کی عورتیں نکالیں ، اُن کی جائدادوں کو لو ٹا وہ چند افراد نہیں ہو سکتے تھے وہ یقیناً ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں تھے مگر اس الزام میں تو سینکڑوں بھی نہیں پکڑے گئے۔آئندہ کا اطمینان گزشتہ جرائم پر ندامت کے اظہار سے پیدا ہو سکتا ہے۔اگر پاکستان اور ہندوستان کی مجلسوں میں مسلمان اور ہندو اور سکھ مجرم اپنی دھوتیاں پھیلائے اور تہبندمیں لٹکائے اور چھاتیاں تانے بیٹھے ہوئے پبلک سے تحسین و آفرین کا انعام حاصل کر رہے ہوں تو ایسے ریزولیوشن کا نتیجہ نکل ہی کیا سکتا ہے۔دنیا لفظوں کو نہیں دیکھا کرتی وہ عمل کو دیکھا کرتی ہے۔جب تک ان مجرموں کو پکڑنے کا انتظام نہیں کیا جائے گا خواہ وہ لاکھوں کی تعداد میں کیوں نہ ہوں ، جب تک قاتلوں اور لٹیروں کو سزا نہ دی جائے گی اُس وقت تک نیک سے نیک نیت سے پاس کئے ہوئے ریزولیوشن بھی بریکار اور بے فائدہ ثابت ہوں گے۔حسین رضی اللہ عنہ وہ نام جن کے زبان پر آنے کے ساتھ رفیع و بلند کیفیتیں اور تعظیم و تکریم کے عظیم الشان جذبات دل میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ان ناموں میں سے ایک وہ نام بھی ہے جس کو آج ہم نے زیب عنوان بنایا ہے۔کونسا مسلمان ہے جس کے دل و دماغ پر حسین کے نام کو سنتے ہی ایک غیر معمولی کیفیت طاری نہیں ہو جاتی۔اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا اس نام کے حروف اور ان کی ترکیب میں کوئی ایسی بات ہے جو یہ اثر ہمارے دلوں پر کرتی ہے ان میں کوئی شک نہیں کہ بعض وقت محض حروف کا حسن ہی کسی لفظ کی کشش کا باعث ہوتا ہے اور حسین کے لفظ میں بھی وہ حسن ضرور موجود ہے لیکن وہ خاص کیفیت جو اس نام کے لینے اور سننے سے ہمارے دل و دماغ پر چھا جاتی ہے وہ یقیناً صرف اس حسن آواز اور لوچ کی پیدا وار نہیں ہے جو ان حروف یا ان کی ترکیب میں ہے جن سے حسین کا لفظ بنا ہے۔تھوڑے سے غور سے ہم کو معلوم ہوگا کہ اس لفظ یا نام کے ساتھ کچھ ایسے عظیم الشان واقعات وابستہ ہو گئے ہیں کہ گوان واقعات کا پورا پورا نقشہ ہمارے سامنے نہ بھی آئے لیکن جب ہم اس نام کو زبان سے دُہراتے ہیں تو جو کیفیت ہمارے دل و دماغ پر چھا جاتی ہے اس کی