انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 281

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۸۱ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ صوبہ جاتی مسلم لیگ کے عہدہ داروں میں تبدیلی پچھلے چند دنوں سے یہ شور سنا جا رہا تھا کہ ایک طرف صوبہ جاتی مسلم لیگ کے اندر اختلافات پیدا ہو رہے ہیں تو دوسری طرف صوبائی وزارت کے اندر بھی اختلافات پیدا ہو رہے ہیں مختلف لوگوں نے ان اختلافات کو مختلف نگاہوں سے دیکھا ہوگا ایک غیر جانبدار اخبار ان اختلافات کو جس نگاہ سے دیکھتا ہے وہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو سکتا اس لئے ہم اس بارہ میں اپنے خیالات ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ہمارے نزدیک وزارت کے اختلافات اور صوبائی مسلم لیگ کے اختلافات کی جڑ ایک ہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ پاکستان کے حصول کے بعد ایک نئی تبدیلی کی محتاج ہے۔پاکستان کا خیال ایسے وقت میں پیدا ہوا جب کہ مسلمان یہ محسوس کر چکے تھے کہ اُن کی قومی زندگی خطرہ میں ہے۔گویا پاکستان کا خیال ایک منفی خیال تھا ، مثبت خیال نہیں تھا۔پاکستان کے خیال کی بنیاد اس امر پر نہیں تھی کہ ہم نے یہ یہ کام کرنے ہیں جو ہندوؤں کے ساتھ مل کر ہم نہیں کر سکتے بلکہ پاکستان کے خیال کی بنیاد اس بات پر تھی کہ مسلمانوں کو بحیثیت مسلمان خواہ وہ کسی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں ترقی اور پھیلاؤ کے ذرائع ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہتے ہوئے میسر نہیں آسکتے تھے۔یہ سوال کہ مسلمانوں کی ترقی کس رنگ میں ہو سکتی ہے، کیا کیا تدابیر اختیار کرنے سے مسلمانوں کے مختلف گروہ اور مختلف علاقے عزت اور آرام اور سکون حاصل کر سکتے ہیں نہ پیدا ہوا نہ اس سوال پر غور کرنے کا موقع تھا جیسے ڈاکو رات کے وقت حملہ کرتے ہیں تو شہر کے لوگ اُس وقت یہ نہیں سوچنے بیٹھتے کہ یہ کس گھر کولوٹیں گے اگر شہر کے لوگ مقابلہ کا فیصلہ کرتے ہیں تو غریب اور امیر سارے مقابلہ میں لگ جاتے ہیں۔غریب یہ نہیں سوچا کرتے کہ ہمارے پاس تو کچھ ہے نہیں ہمیں لوٹنا اُنہوں نے کیا ہے اور اگر شہر کے لوگ بھاگنے کا فیصلہ