انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 274

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۷۴ الفضل کے اداریہ جات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آزاد ہند میں تمام علاقے عوام کی ملکیت ہیں اور کوئی شہزادہ یا فرد واحد اس مملکیت کی اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نواب جونا گڑھ، مہاراجہ کشمیر اور نواب حیدر آباد تینوں میں سے کسی کو حق نہیں کہ وہ اپنے عوام کی مرضی کے خلاف کسی یونین سے الحاق کا فیصلہ کر لے“۔ہم حیران ہیں کہ گاندھی جی نے یہ دو متضاد باتیں ایک ہی وقت میں کس طرح فرما دیں۔اگر یہ درست ہے کہ آزاد ہند میں تمام علاقے عوام کی ملکیت ہیں اور کوئی شہزادہ یا فرد واحد اس ملکیت کی اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ وہ عوام کی مرضی کے خلاف کسی یونین میں شامل ہو سکتا ہے تو پھر بلا منطق تخالف کے یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جونا گڑھ کے وزیر اعظم اور نائب وزیر کا ہندوستانی حکومت کو ریاست کے اختیارات سونپ دینا درست ہے۔کیا جونا گڑھ کا وزیر اعظم یا نائب وزیر جونا گڑھ کے عوام کے نمائندہ ہیں یا کیا وہ نواب صاحب جونا گڑھ کے نمائندہ ہیں؟ اگر یہ درست ہے کہ وہ عوام کے نمائندہ نہیں اور نواب صاحب کے نمائندہ ہیں تو ظاہر ہے کہ گاندھی جی کے پہلے اصول کے مطابق کہ آزاد ہند کے علاقے عوام کی ملکیت ہیں اور کوئی شہزادہ یا فرد واحد اس ملکیت کی اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ کسی ڈومینین ۲۲ سے اپنے عوام کی مرضی کے بغیر الحاق کر سکتا ہے تو ایک فرد واحد یا دو افراد جو عوام کے نمائندے نہیں کس طرح ریاست کی ریاست کسی یونین کے حوالے کر سکتے ہیں کیا جو بین الاقوامی اصول خود گاندھی جی نے پیش کیا ہے اس کے رو سے وزرائے جونا گڑھ کا یہ فعل اس قانون کی صریح خلاف ورزی نہیں ہے خاص کر جبکہ جونا گڑھ کے معاملہ میں ریاست کا حکمران پاکستان سے الحاق کر چکا ہے اگر حکمران کا الحاق درست نہیں تو حکومت ہند کا خاص کر ایسی صورت میں اختیارات پر ریاست نواب جونا گڑھ کے مقرر کردہ وزراء کے توسط سے قبضہ کر لینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔خواہ کوئی وزیر، وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو ہمیں تو گاندھی جی کی اس منطق کی سمجھ نہیں آئی۔کیا گاندھی جی اِن دونوں متضاد باتوں میں تطبیق دے سکتے ہیں۔اس بے اصولی اور متضاد بیانی کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہندوستانی حکومت طاقت کے دکھاوے اور غلط منطق کے بل پر نہ صرف جونا گڑھ اور حیدر آباد کو جہاں مسلم حکمران ہیں اور