انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 272

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۷۲ الفضل کے اداریہ جات مشکل ہو جائے گا تو سپریم کمانڈ کے توڑنے پر خوشی کے اظہار کے معنے کیا ہیں کیا ہم صرف اس لئے کہ انگریز نے ہمارے ساتھ غداری کی ہے اپنا نقصان کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے؟ اگر تو سوال یہ ہو کہ معاملہ انگریز کے ہاتھ میں رہے یا مسلمان کے ہاتھ میں؟ تو ہم سمجھتے ہیں کہ سارے مسلمان اس بات پر اتفاق کریں گے کہ مسلمان کے ہاتھ میں رہنا زیادہ بہتر ہے لیکن اگر سوال یہ نہ ہو بلکہ یہ ہو کہ ہندوستان یونین سے پاکستان کا مال بھجوانے کا اختیار فیلڈ مارشل آخنلیک کے ہاتھ میں ہو یا سردار بلدیو سنگھ کے ہاتھ میں؟ تو جواب بالکل ظاہر ہے۔ جس طرح پہلے سوال کے جواب میں مسلمانوں کے اندر اختلاف رائے کم ہی ہوگا ، اسی طرح ہمارے نزدیک اس سوال کے جواب میں بھی کوئی سمجھدار انسان اختلاف نہیں کر سکتا قریباً سب مسلمانوں کا جواب یہی ہوگا کہ اگر سردار بلدیو سنگھ اور فیلڈ مارشل آخنلیک کا سوال ہے تو ہم فیلڈ مارشل آخنلیک اعتبار کر سکتے ہیں یہ نسبت سردار بلد یو سنگھ صاحب کے۔ پاکستان ابھی کمزور ہے اور وہ اپنا حق اس دلیری سے نہیں لے سکتا جیسا کہ دیر سے قائم شدہ حکومتیں لیا کرتی ہیں لیکن یہ بات صاف اور سیدھی ہے کہ اگر فیلڈ مارشل آخن لیک ہمارا تمیں فی صدی نقصان کریں گے تو سردار بلد یو سنگھ ہمارا ستر فی صدی نقصان کریں گے ۔ پس اس صورت حالات کے ہوتے ہوئے پاکستان کے دوستوں میں سے بعض کا یہ کہنا کہ شکر ہے سپریم کمانڈ توڑ دی گئی ، صرف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے واقعات کو پورے غور سے نہیں دیکھا۔ پر زیادہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں جو ہندوستان یونین کا سامان ہے ہم اسے روک سکتے ہیں ان لوگوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ پاکستان میں ہندوستان یونین کا جو سامان ہے وہ زیادہ تر دوائیوں وغیرہ کی قسم کا ہے لیکن ہندوستان یونین میں جو پاکستان کا سامان ہے وہ گولہ بارود اور توپوں اور طیاروں اور بحری جہازوں کی قسم کا ہے۔ دونوں کی قیمت کا کوئی مواز نہ ہی نہیں جو چیزیں ہمارے پاس ہیں ان کے بغیر ہندوستان یونین ایک حد تک گزارہ کر سکتی ہے لیکن جو چیزیں ان کے پاس ہیں ان کے بغیر پاکستان گزارہ نہیں کر سکتا ۔ ہم اگر حقیقت حال پر پوری روشنی ڈالیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم ایک ایسی چیز کو ظاہر کر رہے ہیں جو حکومت کا راز ہے۔ ہم نے بعض ذرائع سے پاکستان کی طاقت جو سامان کے لحاظ سے ہے، وہ معلوم کر لی ہے