انوارالعلوم (جلد 19) — Page 259
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۵۹ الفضل کے اداریہ جات جب کہ آزاد کشمیر کے سپاہیوں کی صحتیں درست رہیں اور ان کی طاقت قائم رہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ ان کی صحتوں کی درستی اور طاقت کے قیام کا مدار عمدہ غذا اور سردی کو برداشت کرنے والے لباس کے مہیا ہونے پر ہے۔اس میں کوئی حبہ نہیں کہ مغربی پاکستان کے لوگوں کے ذمہ اس وقت مشرقی پاکستان کے پناہ گزینوں کے لباس کے مہیا کرنے کا بہت بڑا کام ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر کشمیر کے مجاہدین کے لئے گرم جرابوں اور گرم کپڑوں کا سامان مہیا نہ کیا گیا تو وہ ہرگز سردی میں اس جنگ کو جاری نہ رکھ سکیں گے۔پس اس کے لئے ابھی سے ملک کو تیار ہو جانا چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غلط امیدوں کے خلاف نتائج نکلے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ خبر میں جو شائع ہو رہی تھیں درست ثابت نہیں ہوئیں اور اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ ایسے لوگوں پر کام کو چھوڑ دیا گیا تھا جو پورے طور پر اس کام کے اہل نہیں تھے۔ایسے سرحدی قبائل لڑائی کے لئے آگے چلے گئے جو اپنے ملک سے دور رہ کر لڑنے کے عادی نہیں اور جو صرف پندرہ بیس دن تک ایک وقت میں لڑائی کر سکتے ہیں وہ بہادر بھی ہیں ، وہ جانباز بھی ہیں ، وہ لڑائی کے دھنی بھی ہیں، وہ جان دینے سے بھی نہیں ڈرتے ان کے حوصلے اور ان کی قربانیوں کا کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن وہ ہمیشہ سے ہی ایسی جنگ کے عادی ہیں جو ان کے گھروں کے آس پاس لڑی جائے۔وہ سو دو سو میل باہر جا کر لڑنے کے عادی نہیں۔نسلاً بعد نسل وہ ان پہاڑیوں میں لڑنے کے عادی ہیں جن میں وہ پیدا ہوئے جن کے کونے کونے سے وہ واقف ہیں ، جن کے ہر نشیب و فراز کا ان کو علم ہے، جن کی ہر وادی اور ہر چوٹی کا نقشہ ان کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔پھر ان لڑائیوں میں جو لوگ لڑتے رہتے ہیں ان کا عقب ہمیشہ محفوظ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے گھروں سے دور کبھی نکلے ہی نہیں اور اس وجہ سے وہ جانتے ہی نہیں کہ عقب کی حفاظت کتنی ضروری ہے کیونکہ ان کے راستے یا تو خود ان کے بیوی بچوں کی نگرانی میں ہوتے تھے یا ان کے دوست قبائل کی نگرانی میں ہوتے تھے۔ان کے رستوں کو وہی تو ڑ سکتا تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہو اس لئے اپنے رستوں کی حفاظت کا خیال کبھی سرحدی قبائل کے دلوں میں پیدا ہی نہیں ہوتا لیکن اپنے گھر سے دور جا کر لڑنے والی فوجوں کے لئے سب سے اہم سوال ان رستوں کی حفاظت کا ہوتا ہے جہاں