انوارالعلوم (جلد 19) — Page 253
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۵۳ الفضل کے اداریہ جات ہوئے قانونوں میں افراط تفریط کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔انسانی عقل ایک نہایت ہی محدود چیز ہے اور چونکہ ایک وقت میں ایک سوال کے ہر پہلو کو پیش نظر رکھنا اس کے احاطہ اقتدار سے باہر ہے اس لئے عقل جو بھی اصول بناتی ہے اس میں کچھ نہ کچھ خامی رہ جاتی ہے۔دنیا کی تاریخ ہم کو بتاتی ہے کہ ایک وقت اور ایک حالات میں جو بات نہایت مستحسن معلوم ہوتی تھی۔دوسرے وقت اور دوسرے حالات میں وہی بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ایک زمانہ میں سائنس اور فلسفہ کے جو نتائج ہم کو آخری معلوم ہوتے ہیں زمانہ مابعد میں ان کی تردید ہو جاتی ہے لیکن قرآن کریم میں جو باتیں کہی گئیں ہیں اٹل ہیں۔زندگی کے جو اصول بیان کئے گئے ہیں وہ آخری ہیں۔یہ صرف زبانی دعوی نہیں بلکہ چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ کا اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو نظر آئے گا کہ جب کبھی انسانی عقل نے اس آفتاب کے چہرے پر پردے ڈالنے کی کوشش کی ہے تو اس کی جاودانی شعاعوں نے ان پر دوں کو تار تار کر کے ہوا میں اُڑا دیا ہے۔ہندوستان میں شہنشاہ اکبر کل کے عہد میں اسلامی تعلیم کو سیاسی مصالح پر قربان کرنے کی انتہائی کوشش ہو چکی ہے، شاہی دربار سے الحاد کی جو تاریک گھٹا اُٹھی تھی اُس نے ایک وقت کے لئے تو بے شک آفتاب کی روشنی کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا تھا مگر تاریکیوں کے یہ با دل زیادہ دیر تک مطلع پر چھائے نہ رہ سکے۔حضرت سید احمد سرہندی ۱ مجددالف ثانی علیہ الرحمہ نے ایک ہی اشارے میں ان بادلوں کو پھاڑ کر رکھ دیا اور آفتاب اسلام کا درخشاں چہرہ دنیا کے سامنے کر دیا اور اس کی روح پرور شعاعیں کوہ و دمن کو منور کرنے لگیں۔یہ چشمہ فیض حضرت سید احمد بریلوی علیہ الرحمہ 19 کے عہد سعید تک جاری رہا۔پھر مغربی الحاد کا طوفان اُٹھا جس نے ایک دفعہ پھر مسلمانان ہند کی نگاہوں سے آفتاب عالمتاب کو پنہاں کر دیا۔یہ سب سے بڑا طوفان ہے جو دنیا کی پیدائش سے لے کر عقل کے طاغوت نے آج تک بپا کیا ہے لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ اس طوفان کی بھی آخری گھڑیاں آن پہنچی ہیں۔دنیا میں جو انقلابات رونما ہورہے ہیں اگر چہ بظاہر وہ نہایت بھیا نک مناظر کے حامل نظر آتے ہیں لیکن صرف انسانی تجربہ کی کسوٹی پر رکھنے سے بھی ہر صاحب ادراک محسوس کر سکتا ہے کہ طاغوتی طاقتیں اپنے حد کمال کو عبور کر کے انحطاط کی طرف مائل ہو چکی ہیں اور عقل و خرد کے بلبلے پھٹ جانے کے لئے ایک ذرا سی ٹھیس