انوارالعلوم (جلد 19) — Page 252
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۵۲ الفضل کے اداریہ جات پس پاکستان کی اقتصادی حالت کو درست کرنا گورنمنٹ کے اہم ترین فرائض میں سے ہے اور اس کی طرف جتنی بھی توجہ دی جائے کم ہے لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ اب تک فیکٹریاں کرائے پر بھی نہیں دی گئیں اور نہ لوہے کی پتیوں کا انتظام کیا گیا ہے نہ کوئلے کا انتظام کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کارخانوں کے تقسیم ہو جانے کے بعد بھی کام فوراً نہیں چل سکے گا۔اول تو کم سے کم دو ہفتے کارخانوں کی صفائی پر لگیں گے پھر عملہ تلاش کرنے میں بھی ٹھیکیداروں کا وقت خرچ ہوگا بلکہ اگر ہماری اطلاعات ٹھیک ہیں تو بہت سی جگہوں پر ہندو مالکان کارخانہ نے بعض اہم پُرزے مشینوں میں سے نکال کر چھپا دیئے ہیں جس کی وجہ سے کارخانوں کے چلانے میں دقت ہوگی اور جب انجینئر مشینوں کو صاف کرنے لگیں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ وہ مشینیں اس وقت تک چلنے کے قابل ہی نہیں جب تک کہ بیرونی ممالک سے نئے پرزے لا کر ان میں نہ ڈالے جائیں۔جس کے دوسرے معنی یہ ہونگے کہ اس سال روئی کے بہت سے کارخانے چل ہی نہیں سکیں گے۔خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو زمیندار کی تباہی میں کوئی ھبہ ہی نہیں رہتا اور پاکستان کی مالیات کو بھی سخت نقصان پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان کی بڑی دولتوں میں سے ایک دولت اس کی کپاس ہے لیکن اگر یہ اطلاعات درست نہیں ، تب بھی بغیر کوئلہ اور بغیر لوہے کی پتیوں اور بغیر ان کے وقت پر مہیا ہو جانے کے اور کارخانوں کے فوراً جاری ہو جانے کے زمیندار کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔پس ہم حکومت کو اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اس معاملہ میں زیادہ دیر نہ کرے اور فوراً کار خانے جاری کروا دے ورنہ زمیندار تو تباہ ہی ہو جائیں گے، حکومت کی اپنی مالی حالت کو بھی سخت دھکا لگے گا اور اسے بہت سے مقامات پر معاملہ اور آبیانہ معاف کرنا پڑے گا کیونکہ ان حالات میں زمیندار معاملہ دے کر اگلے چھ مہینے روٹی نہیں کھا سکتا اور اگلے چھ مہینے وہ روٹی کھائے گا تو گورنمنٹ کا معاملہ ادا نہیں کر سکے گا۔ہماری سب سے بڑی طاقت قرآن کریم ہے الفضل کی کسی گزشتہ اشاعت میں ہم نے ان کالموں میں لکھا تھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی دولت قرآن کریم کی تعلیم ہے۔زندگی کا کوئی پہلو نہیں جس کے متعلق ہم کو ایک بنا بنایا اصول اس تعلیم میں نہ ملتا ہو۔انسان کے بنائے