انوارالعلوم (جلد 19) — Page 249
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴۹ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پاکستان کی اقتصادی حالت جب ہندوستان کے دوٹکڑے ہونے کا سوال پیش تھا اُس وقت متحدہ ہندوستان کے مدعی اسی بات پر زور دیا کرتے تھے کہ اگر ہندوستان کے دوٹکڑے ہوئے تو پاکستان اقتصادی طور پر اتنا کمزور ہو گا کہ وہ اپنی آزاد ہستی کو قائم نہیں رکھ سکے گا۔انگریز کا بھی یہی خیال تھا اور اسی وجہ سے وہ پاکستان کا مخالف تھا اس لئے نہیں کہ وہ مسلمانوں کا خیر خواہ ہے بلکہ اس لئے کہ انگریز ہندوستان کو آزادی صرف روس کے ڈر کی وجہ سے دے رہا تھا۔انگریز اس بات کو سمجھ چکا تھا کہ آئندہ جنگ میں روس ہندوستان کو لپیٹ میں لانے کی ضرور کوشش کرے گا۔جرمن کے ساتھ جنگ میں ہندوستان کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ جرمنی سے بہت دور تھا۔جاپان کے ساتھ جنگ میں بھی ہندوستان ایسی اہمیت نہیں رکھتا تھا کیونکہ جاپانی فوجیں ہندوستان میں صرف ایک لمبا اور دشوار گزار راستہ طے کر کے داخل ہو سکتی تھیں اور اس وجہ سے کوئی بڑی فوج ہندوستان پر حملہ آور نہیں ہو سکتی تھی لیکن روس کی سرحدیں ہندوستان سے ملتی ہیں۔پامیر کی طرف سے گو ایک دشوار گزار پہاڑی راستہ طے کرنا پڑتا ہے اور افغانستان کی طرف سے۔گو ایک آزاد قوم کے ساتھ ٹکرانا پڑتا ہے لیکن بہر حال یہ مشکلات اتنی سخت نہیں جتنی کہ جرمن اور جاپان کے راستہ میں تھیں۔پس آئندہ جنگ جو روس کے ساتھ ہوتی نظر آتی ہے اس میں ہندوستان ایک نہایت ہی اہم حیثیت رکھے گا۔انگریز سمجھتا تھا کہ پاکستان کی اقتصادی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے وہ مضبوط اور بڑی فوج نہیں رکھ سکتا اور ہندوستان اپنے اعلیٰ رنگروٹوں سے محروم ہو جانے کی وجہ سے باوجود وسیع مالی ذرائع کے کوئی بڑی فوج نہیں رکھ سکتا۔ہندوستان بڑی فوج تبھی رکھ سکتا ہے جب کہ ہندوستان کا وہ حصہ جو اب پاکستان کہلاتا ہے اس کے ساتھ شامل ہو۔روپیہ ہندو قوم مہیا کرے اور سپاہی مسلمان قوم مہیا کرے۔روس جیسے ملک کے ساتھ لڑائی کرنے کے