انوارالعلوم (جلد 19) — Page 248
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴۸ الفضل کے اداریہ جات وفاداروں کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ اگر اُن کی نظر اتفاقی طور پر کسی ایسی چیز پر پڑ بھی جائے تو وہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ہمیں یہ سن کر تعجب ہوا کہ ایک محکمہ جسے خبروں کے معلوم کرنے کے بہت سے ذرائع حاصل ہیں جب اُس کے افسر سے کسی نے یہ کہا کہ ہماری اس معاملے میں مدد کریں کہ فلاں بات بغیر مشہور ہوئے منزل مقصود تک پہنچ جائے تو اس افسر نے آگے سے یہ جواب دیا کہ یہ احتیاط فضول ہے آجکل کونسی بات چھپی رہتی ہے۔دیکھئے تو فلاں نے فلاں کو اس اس قسم کی ہدایت جاری کی اور وہ بھی سب کو معلوم ہوگئی۔وہ بات جو بتانے والے نے بتائی نہایت ہی اہم تھی۔ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ جب وہ ہدایت منزل مقصود تک پہنچی تو ایک ذمہ دار افسر نے ایک اور ذمہ دار افسر کو یوں فون کیا کہ ہمیں بڑھے نے فلاں کام کرنے کا حکم دیا تھا مگر ہم نے وہ کام نہیں کیا۔یہ فون کرنے والا پاکستان کا افسر تھا اور جس کو فون گیا گیا تھا وہ انڈین یونین کا افسر تھا۔ہر ایک پاکستان کا خیر خواہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ صورتِ حالات نا قابل برداشت ہے ہم اپنے ہاتھ سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں یہ ذہنیت بدلنی چاہئے یہ حالات تبدیل ہونے چاہئیں ورنہ کام کو نقصان پہنچے گا۔یہ اصول جو ہم نے بیان کئے ہیں ایسے نہیں جن سے صرف راز دانوں کو واقفیت ہو ہم نہ کشمیر میں ہیں نہ آزاد گورنمنٹ سے ہمارا کوئی تعلق ہے مگر ہم اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے ان باتوں کو سمجھ رہے ہیں اور ہر مسلمان ہماری طرح سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ سمجھنا چاہے اور بشر طیکہ اپنی قوم کی وفاداری کا جذبہ اس کے دل میں موجزن ہو۔( الفضل ۷ نومبر ۱۹۴۷ء )