انوارالعلوم (جلد 19) — Page 247
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴۷ الفضل کے اداریہ جات اپنی زبان کو کھوئے جانے پر حسرت سے ہاتھ ملنے لگے اور ادھر اُدھر گھبرائے ہوئے پھرنے لگے کہ اب کیا ہو گا۔یہ حالت اگر دُور نہ ہوئی تو اس سے آزادی کشمیر کی کوششوں کو سخت نقصان پہنچے گا۔پس ہم با ادب تمام مسلمانوں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ:۔اول اخباروں یا دوسرے اداروں کو ہر گز کوئی ایسی خبر نہ بھیجیں جو ثابت شدہ حقیقت نہ ہو جس میں مبالغہ سے کام لیا گیا ہو، ایسی خبروں سے قوم کے حوصلے نہیں بڑھتے بلکہ جب اُن کی غلطی ثابت ہوتی ہے تو قوم کے حوصلے گر جاتے ہیں اور عارضی طور پر بڑھا ہوا حوصلہ ایک مستقل شکست خوردہ ذہنیت میں تبدیل ہو جاتا ہے اور قوم ایک ایسے گڑھے میں گر جاتی ہے جس میں سے اُس کا نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔دوم اخبارات کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہر نامہ نگار کی خبر کو تسلیم نہ کر لیا کریں بلکہ اگر کوئی نامه نگار غلط خبر دے تو اس سے سختی سے باز پرس کیا کریں تا کہ آئندہ کیلئے نامہ نگاروں کو کان ہو جائیں اور وہ اخبار کی بدنامی اور قوم کی تباہی کا موجب نہ بنیں۔سوم ہمیں یہ عادت ترک کر دینی چاہئے کہ چاروں طرف سے حقیقت حال کے معلوم کرنے کے لئے قوت شنوائی کا جال پھیلاتے پھریں یا تو کام کرنے والوں پر ہمیں اعتبار ہے یا ہمیں اعتبار نہیں۔اگر کام کرنے والوں پر ہمیں اعتبار ہے تو ہمیں اُن کو کام کرنے دینا چاہئے اور ان کے راستہ میں مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں اور اگر ہمیں کام کرنے والوں پر اعتبار نہیں تو ہمیں دوسرے کام کرنے والے پیدا کرنے چاہئیں یا کوئی ایسا فیصلہ کرنا چاہئے جس سے کام کرنے والوں کی اصلاح ہو لیکن جہاں معلوم ہو کہ کوئی شخص کشمیر کا کام کر رہا ہے اور اس کے پیچھے بیسیوں جاسوس دوڑ پڑے اور چاروں طرف سے سوالات کی اُس پر بھر مار ہو گئی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ جس کا اس کام سے تعلق نہیں اُسے بیسیوں خبریں اِن سوال کرنے والوں سے مل جائیں گی اور خود سوال کرنے والوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔اور اگر اس کا اس کام سے کوئی تعلق ہے تو اُسے یکدم یوں معلوم ہوگا کہ وہ ایک شیشہ کی دیواروں والے حمام میں نگا نہا رہا ہے جس کے چاروں طرف کھڑے ہوئے لوگ اُسے دیکھ رہے ہیں۔ایسا آدمی نہا نہیں سکتا اور اگر یہ آدمی نہا نہیں سکتا تو وہ آدمی ایک اہم سیاسی کام کس طرح کر سکتا ہے۔قوم کے