انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 4

انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر پائی جاتیں تھیں تو کچھ خوبیاں تو قریباً ہر قوم میں ہی پائی جاتی ہیں اور اس وجہ سے عربوں کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہتی۔جہاں تک میں نے سوالات کرنے والے دوستوں اور لیکچرار کے نقطہ ہائے نگاہ کے متعلق اندازہ لگایا ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کو ہی غلط فہمی ہوئی ہے۔نہ تو سوال کرنے والے ان کی تقریر کو صحیح طور پر سمجھ سکے ہیں اور نہ لیکچرار نے ان کے سوالات کو سمجھا ہے اور دونوں غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں۔مثنوی میں مولانا روم ایک مثال بیان کرتے ہیں کہ کسی جگہ چار فقیر تھے ان میں سے ایک ہندی تھا، دوسرا ایرانی ، تیسر ا عرب اور چوتھا رک۔وہ چاروں بازار میں اکٹھے ہو کر لوگوں سے خیرات مانگتے رہے مگر کسی نے انہیں کچھ نہ دیا۔جب شام ہوئی تو کوئی شخص اُن کے پاس سے گز را اور جب انہوں نے سوال کیا تو اُسے ان کی حالت پر رحم آیا اور اس نے انہیں ایک پیسہ دے دیا مگر چونکہ پیسہ ایک تھا اور فقیر چار تھے اس لئے انہوں نے آپس میں جھگڑنا شروع کر دیا۔ہندی کہتا تھا میں صبح سے گلا پھاڑ پھاڑ کر سوال کرتا رہا ہوں اس لئے پیسہ میری خواہش کے مطابق خرچ کیا جائے اور اس پیسہ کی راکھ کے خریدی جائے گی۔عرب کہنے لگا تم غلط کہ رہے ہو پیسہ دینے والے نے میری ہی حالت پر رحم کھا کر پیسہ دیا ہے اس لئے پیسہ میری مرضی کے مطابق خرچ ہو گا اور اس کی راکھ نہیں بلکہ عنب سے خریدا جائے گا، ایرانی نے کہا تم دونوں غلط کہہ رہے ہو یہ پیسہ میری مرضی سے خرچ ہو گا اور نہ راکھ خریدی جائے گی اور نہ عنب بلکہ انگور خریدا جائے گا۔یہ سن کر ترکی سخت چیں بجبیں ہوا اور کہنے لگا تمہاری تینوں کی رائے غلط ہے۔یہ پیسہ میری مرضی کے سوا خرچ نہیں ہو سکتا اور اُس نے ترکی زبان میں انگور کا نام لے کر کہا کہ میں وہ خریدنا چاہتا ہوں۔اس پر انہوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا اور ان میں سے ہر شخص چاہتا تھا کہ میری بات مانی جائے اور میری خواہش کے مطابق چیز خریدی جائے۔وہ آپس میں جھگڑ ہی رہے تھے کہ ایک شخص پاس سے گزرا جو اُن چاروں کی زبانیں سمجھتا تھا اُس نے پاس کھڑے ہو کر ان کی باتیں سنیں اور کہا آؤ میں تمہارے جھگڑنے کا فیصلہ کر دوں اور ہر ایک کی خواہش کے مطابق چیز خرید دوں۔یہ کہہ کر وہ ان کو ساتھ لے گیا اور جا کر انگور خرید دیئے اور وہ سب خوش ہو گئے۔اصل بات یہ تھی کہ وہ سب ایک ہی چیز مانگ رہے تھے مگر وہ ایک دوسرے کی زبان نہ