انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 244

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴۴ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کشمیر کی جنگ آزادی ایک ماہ کے قریب عرصہ سے کشمیر کے لوگوں نے اپنی آزادی کے لئے جد و جہد کرنی شروع کی اور یہ جدو جہد ان مظالم کے نتیجہ میں ہے جو ریاست کشمیر کی طرف سے مسلمانوں پر کئے جا رہے تھے۔پٹھان کشمیر کا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر ان مظالم سے متاثر ہوئے خصوصاً اس لئے کہ مظفر آباد، ریاست کشمیر اور ہزارہ علاقہ سرحد کے ہزاروں آدمی آپس میں رشتہ داری کا تعلق رکھتے ہیں۔بالخصوص ضلع مظفر آباد کے مسلمان رؤساء اور ضلع ہزارہ کے مسلمان رؤساء کے درمیان کثرت سے شادی بیاہ ہوتے رہتے ہیں۔اسی طرح کشمیر سے اوپر کے رہنے والوں کے نہایت ہی قریبی تعلقات سرحد کے بعض قبائل سے ہیں ان تعلقات کی بناء پر یہ مکن نہ تھا کہ کشمیر کے واقعات سے صوبہ سرحد متاثر نہ ہوتا یا پونچھے اور میر پور کے واقعات سے راولپنڈی، جہلم اور گجرات متاثر نہ ہوتے تو لازماً ان علاقوں میں بھی جوش پھیلا اور سرحد کے کچھ قبائل کشمیر میں اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے داخل ہو گئے۔کشمیر کی حکومت نے بجائے اصلاح کرنے کے ہندوستان یونین کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کر دیا اور اس کی مدد طلب کی اور ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب مشہور لیڈ رکشمیر اس موقع پر صحیح طریق عمل اختیار کرنے سے قاصر رہے اور انہوں نے کشمیر کے راجہ کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کر دیا۔دنیا کی ساری حکومتوں میں شاید کشمیر ہی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اِس میں ایک وقت میں دو وزیر اعظم ہیں۔مسٹر مہر چند مہاجن دیوان کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں اور شیخ عبداللہ صاحب پرائم منسٹر کے نام سے۔حالانکہ دیوان اور پرائم منسٹر ایک ہی چیز کا نام ہے۔ہمیں اس واقعہ پر ایک پرانا لطیفہ یاد آتا ہے۔آج سے ساٹھ ستر سال پہلے جب پنجاب میں انجمنوں کا نیا نیا رواج شروع ہوا تو ایک بزرگ جو بھیرہ کے رہنے والے تھے اور جموں میں ایک بہت بڑے عہدہ پر ملازم تھے