انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 3

انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر ( فرموده ۲۶ ، ۲۷ مئی ۱۹۴۷ ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان) مکرم السید منیر الحصنی صاحب نے ۲۱ رمئی بعد نماز مغرب زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کے مناقب کے موضوع پر عربی میں تقریر کی تھی مگر چونکہ وقت کم رہ گیا تھا اس لئے دوستوں کو سوالات کا موقع نہ مل سکا۔۲۶ رمئی بعد نماز مغرب جب مجلس منعقد ہوئی تو حضور نے فرمایا:۔میں دو تین دن سے نزلہ وزکام سے بیمار ہوں اس لئے آج کچھ زیادہ بول نہیں سکتا۔السيد منير الحصنی صاحب کا لیکچر تو اُس روز ہو گیا تھا مگر سوالات کا حصہ رہ گیا تھا اس کے متعلق دوستوں کو اب موقع دیا جاتا ہے اگر دوستوں نے کچھ سوالات کرنے ہوں تو وہ کر سکتے ہیں۔اس پر تین دوستوں نے سوالات کئے اور معززلیکچرار نے ان کے جوابات دیئے اس کے بعد حضور نے فرمایا۔) مجلس میں بہت سے لوگ ایسے بھی بیٹھے ہیں جو عربی نہیں جانتے اور وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے ہوں گے کہ سوال کرنے والوں نے کیا سوالات کئے ہیں اور جواب دینے والے نے کیا جوابات دیئے ہیں مجھے نزلہ کی شکایت تو ہے لیکن میں کچھ باتیں آج بیان کر دوں گا اور باقی پھر کسی وقت بیان ہو جائیں گی۔یہ تقریر جو منیر الحصنی صاحب نے کی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ عرب کے لوگوں میں قبل از اسلام بھی بعض خوبیاں پائی جاتی تھیں اور جن دوستوں نے اعتراضات کئے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ آیا یہ خوبیاں اُن عربوں میں عام تھیں یا خاص۔اگر یہ خوبیاں ان میں عام پائی جاتی تھیں تو قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم جو ہم لیتے ہیں غلط قرار پاتا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ في البر والبحر اور اگر وہ خوبیاں خاص خاص لوگوں میں الْبَرِّ لے