انوارالعلوم (جلد 19) — Page 225
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۲۵ الفضل کے اداریہ جات کر کے اُس نے اپنے ملک کو انگریزی غلبہ سے آزاد کروالیا۔ہٹلر کا انجام چاہے کیسا ہی خراب ہوا ہو لیکن اس میں کیا شک ہے کہ وہ فوج میں صو بیداری کا عہدہ رکھنے والا دنیا کے بہترین جرنیلوں کے پیدا کرنے کا باعث ہوا۔گوئرنگ ۱۳ محض ایک ہوا باز تھا اور ہوا باز بھی ایسا جو ابھی صرف تجربہ ہی حاصل کر رہا تھا مگر ملک کی محبت کے جذبات نے پائلٹ گوئرنگ کو دنیا کے سب سے زبردست ہوائی جہاز کے بیڑہ کا مارشل گوئر نگ بنا دیا۔ہم کیوں خیال کریں کہ پاکستان کے افسر حب الوطنی کے جذبہ سے بالکل عاری ہیں یقیناً ان میں بھی اپنے وطن پر جان دینے کی خواہش رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔اگر انہوں موقع دیا جائے کہ وہ اپنے ملک کی آزاد نہ خدمت کریں تو یقیناً وہ ملک کے لئے بہترین تعویز اور فخر کا موجب ثابت ہو نگے۔فوج میں ایسے کام بھی ہو سکتے ہیں جن کے لئے خاص فنون کے ماہروں کی ضرورت ہو۔ایسے فنون کے ماہر بے شک باہر سے بھی لئے جاسکتے ہیں اور اگر ضرورت سمجھی جائے تو بعض لڑنے والے افسر بھی باہر سے لئے جاسکتے ہیں لیکن یہ افسر ایسے نہیں ہونے چاہئیں جو تقسیم ہند سے پہلے قائداعظم اور مسلم لیگ کو سو سو گالیاں دیا کرتے تھے اور ہم یقین کے طور پر جانتے ہیں کہ ایسے انگریز افسر پاکستان کی فوج میں موجود ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسے انگریز افسر پاکستانی فوج میں نہ رہیں۔بے شک اگر ضرورت ہو تو اُن کو رکھا جائے لیکن قومی دفاع کے اہم عہدوں پر ان کو مقرر نہیں کرنا چاہئے۔ہر فوجی افسر قومی دفاع کے اہم کام پر مقرر نہیں ہوتا۔جس طرح دوسرے کاموں میں کوئی عہدہ اہمیت والا ہوتا ہے کوئی غیر اہمیت والا ہوتا ہے یہی حالت فوج کی بھی ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ جب ایسے افسر دوسرے غیر اہم کاموں پر لگائے جا سکتے ہیں تو کیوں انہیں ان کا موں پر لگا کر ایسے عہدے جو دفاع کے لحاظ سے بہت اہم ہیں مسلمان افسروں کے سپرد نہ کئے جائیں۔مگر ایک اور بات بھی ہے اگر یہ اصلاحات کر بھی دی جائیں تب بھی پاکستان کی فوج پورے طور پر اپنی ملکی سرحدوں کا دفاع نہیں کر سکتی۔پاکستان کی سرحد کوہ ہندوکش سے شروع ہو کر مانسہرہ ، ہزارہ، راولپنڈی، جہلم، گجرات اور سیالکوٹ کے ساتھ ہوتی ہوئی، منٹگمری، بہاولپور، سکھر، خیر پور سے گزرتی ہوئی امرکوٹ کی تحصیل کے خاتمہ پر سمندر سے جا کر ملتی ہے۔