انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 221

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۲۱ الفضل کے اداریہ جات مسافر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ خود ٹکٹ لے اور اپنے کمرہ میں بیٹھنے والے کسی شخص کو بغیر ٹکٹ کے سفر نہ کرنے دے۔اب ملک تمہارا ہے، اب ریل بھی تمہاری ہے اور ملک کی حفاظت اور ریل کی آمد کی حفاظت اور دوسرے سرکاری محکموں کی آمد کی حفاظت کرنا بھی تمہارا فرض ہے۔یہ کہنا کہ اب ریل چونکہ پاکستان کی ہے اور ہم بھی پاکستان کے ہیں اس لئے ہمارا حق ہے کہ جس طرح چاہیں اس ریل کو استعمال کریں عقل کے بھی خلاف ہے اور دیانت کے بھی خلاف ہے۔ان لوگوں کے بچے یا بھائی یا بیویاں اگر بیمار ہوتے ہیں تو کیا یہ لوگ ان کے علاج پر روپیہ خرچ کیا کرتے ہیں یا یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ بچہ بھی میرا ہے یہ بیوی بھی میری ہے اب میں جس طرح چاہوں ان کو مار دوں۔جو شخص پاکستان کی آمد کو نقصان پہنچاتا ہے وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اپنی قوم کو نقصان پہنچا تا ہے اور منظمند انسان اپنے مال کو نقصان نہیں پہنچایا کرتے بلکہ اسے بڑھانے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔اسی طرح شکایت کی جاتی ہے کہ زمیندار معاملہ ادا نہیں کر رہے۔یہ بھی نہایت ہی گندی روح ہے اگر انہوں نے ایسا ہی کیا تو پھر پاکستان حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔اگر وہ اپنے ملک میں عزت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ان کو اپنی قربانیاں پہلے کی نسبت زیادہ کرنی پڑیں گی۔اپنی حکومت کے الفاظ کے پردہ میں اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرنا انہیں بہت ہی مہنگا پڑے گا۔الفضل لاہور ۱۴ / اکتوبر ۱۹۴۷ ء )