انوارالعلوم (جلد 19) — Page 220
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۲۰ الفضل کے اداریہ جات کے کہ ملک کے لوگوں کی اکثریت ایک بات پر قائم ہو، اقلیت کی مدد کر کے اس کو ایک خاص نظام اختیار کرنے پر مجبور کر دینا نہایت مہلک ہوتا ہے اور مذہبی آزادی کو تباہ کر دیتا ہے۔دوسری بات یہ یا درکھنی چاہئے کہ مشرق وسطی کے مسلمان ممالک پر روس کی نظر ہے وہ ان کو تباہ کرنا چاہتا ہے اس لئے باوجود انگریزوں کی مخالفت کے وہ روس کی طرف مائل نہیں۔مصر، شام ، حجاز ، عراق اور ٹرکی کی حکومتیں سب کی سب روسی نفوذ کے خلاف اور اس سے خائف ہیں۔پبلک میں سے بھی اکثر اسی خیال کے ہیں۔ایران بھی روسی دخل اندازی سے نالاں اور گریاں ہے۔پاکستان کی حقیقی ترقی کا راز مسلم اقوام کے اتحاد میں ہے اگر ہم اسلام کی سچی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مسلمان حکومتوں کو اکٹھا کرنا پڑے گا تا کہ اسلام کے اثر اور اس کے نفوذ کو بڑھا سکیں۔اگر پاکستان کے نوجوانوں کی توجہ روس کی طرف رہی تو لازمی طور پر پاکستان اور مشرق وسطی کے اسلامی ممالک میں تفرقہ پیدا ہو جائے گا اور یہ دونوں مل کر ایک مقصد اور مدعا ا کے حصول کے لئے کوششیں نہیں کر سکیں گے پس اسلامی اتحاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اسلام کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں اس خیال کے قریب بھی نہیں جانا چاہئے۔پاکستان کی مالی حالت چاروں طرف سے خبر میں آ رہی ہیں کہ پاکستان کی مالی حالت کمزور ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ خبریں بہت حد تک درست ہیں۔پاکستان ریلوں میں بالعموم بغیر ٹکٹ کے لوگ سوار ہوتے ہیں اور جب اُنہیں پکڑا جائے تو کہتے ہیں کہ اب تو ٹرین ہماری اپنی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ریلوں کی آمدن بالکل گر گئی ہے اور ایک مہینہ میں سے دو کروڑ روپیہ کا خسارہ ہوا ہے اگر یہی حالت رہی تو لازماً حکومت کو ریلیں بند کر دینی پڑیں گی۔ریلوں کے بند ہونے کے بعد تجارت بھی بند ہو جائے گی اور سفروں کی دقت کی وجہ سے ملک میں میل جول بھی بند ہو جائے گا۔ایک سچے مسلمان کا تو یہ فرض تھا کہ وہ اس بات پر زور دیتا کہ چونکہ پاکستان حکومت کی مالی حالت کمزور ہے ریل کا کرا یہ بڑھا دو میں اس موجودہ کرایہ سے زیادہ کرا یہ دوں گا۔بے ٹکٹ ریل میں چڑھنے والا یقیناً پاکستان کا دشمن ہے، وہ مسلمان قوم کا بھی دشمن ہے اور ایسے دشمن کو سمجھانا اور نہ سمجھے تو اس پر قومی دباؤ ڈالنا ہر پاکستان کے خیر خواہ کا فرض ہے۔پس ہم ریل میں سفر کرنے والے ہر مسلمان